السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: : إذا حصر الإمام لقن باب: جب امام (قراءت میں) رک جائے تو اسے لقمہ دیا جائے
حدیث نمبر: 5790
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَلِيُّ، أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي، لَا تَقْرَأْ وَأَنْتَ رَاكِعٌ وَلَا أَنْتَ سَاجِدٌ، وَلَا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ فَإِنَّهُ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَلَا تَعْبَثْ بِالْحَصْبَاءِ، وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ، وَلَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ، وَلَا تَخَتَّمْ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَلْبَسْ الْقَسِّيَّ، وَلَا تَرْكَبْ عَلَى الْمَيَاثِرِ "..حافظ ثناء اللہ
حارث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں اور تیرے لیے وہ ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں، تو رکوع میں قرآن نہ پڑھ اور نہ ہی سجدہ میں، اور بالوں کی لٹ بنائے ہوئے نماز نہ پڑھ، کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے، اور دو سجدوں کے درمیان ایقاع نہ کر، اور کنکریوں سے نہ کھیل، اور ہتھیلیوں کو نہ پھیلا، اور امام کو لقمہ نہ دو، اور سونے کی انگوٹھی نہ پہن، اور قسی کے کپڑے نہ پہنو، اور ریشمی گدھی پر سواری نہ کرو یعنی نہ بیٹھو۔“