کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بیان میں کہ ”کوئی مسلمان کسی کافر کی اقتدا نہ کرے“۔
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ "، وَلَمْ تَكُنْ صَلَاةُ الْكَافِرِ إِسْلَامًا مِنْهُ إِذَا لَمْ يَتَكَلَّمْ بِالْإِسْلَامِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کا سب سے زیادہ قاری ہو۔“
اور کسی کافر کا نماز پڑھ لینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ نماز سے پہلے زبانی طور پر اسلام کا اقرار نہ کر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ الْمِسْمَعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں جب تک وہ یہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔ جب انہوں نے یہ کام کیے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5141
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني في الذي قبله»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَصَلُّوا صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، حُرِّمَتْ عَلَيْنَا أَمْوَالُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِ، وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں مشرکین سے لڑائی کروں۔ یہاں تک وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ جب انہوں نے گواہی دے دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور انہوں نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو ان کے مال اور خون ہمارے اوپر حرام ہیں مگر حق کی وجہ سے۔ اس کے لیے بھی وہی احکام ہیں جو مسلمان کے لیے، اس پر بھی وہی ہے جو کسی مسلمان پر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5142
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني في الذي قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ: " مَعَكَ مَاءٌ؟ " فَأَتَيْتُهُ بِمَطْهَرَةٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنَ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، هَكَذَا رَوَاهُ مُسَدَّدٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ نماز سے پیچھے رہ گئے۔ جب آپ ﷺ نے اپنی ضرورت پوری کر لیں تو فرمایا: ”تیرے پاس پانی ہے؟“ میں پانی کا برتن لے کر آیا تو آپ ﷺ نے چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں، پھر آپ ﷺ اپنے بازوؤں سے جبہ اتارنے لگے لیکن جبے کی آستین تنگ تھی، آپ ﷺ نے ہاتھ جبے سے نکال لیا اور جبے کو کندھوں پر ڈال لیا، بازو دھوئے، پھر پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ پھر آپ ﷺ سوار ہوئے تو میں بھی سوار ہوا اور ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے جو نماز پڑھ رہے تھے، ان کو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ ایک رکعت ہو چکی تھی، جب انہوں نے نبی ﷺ کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے ان کو اشارہ کیا تو انہوں نے ہی نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہو گیا اور وہ رکعت ادا کی جو ہم سے رہ گئی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5143
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 274»