کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: نابالغ بچے کی امامت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5138
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ لَنَا: " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ ". قَالَ: فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَأَنَا غُلَامٌ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ، فَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَبِي: أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ ". وَرَوَاهُ مِسْعَرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم، سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب میری قوم نبی ﷺ کے پاس سے واپس لوٹی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری امامت وہ کروائے جو تم میں سے قرآن کو زیادہ پڑھا ہوا ہو۔“ وہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے بلوایا اور رکوع و سجود سکھائے، میں انہیں نماز پڑھاتا تھا اور میں بچہ تھا، میرے اوپر ایک پھٹی ہوئی چادر تھی تو وہ میرے باپ سے کہتے: ”کیا آپ اپنے بیٹے کی سرین ہم سے نہیں ڈھانپتے؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5138
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني في الذي قبله»
حدیث نمبر: 5139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَرْمِيُّ وَكَانَ شَيْخًا كَيِّسًا حِيَّ الْفُؤَادِ، حَدَّثَنَاهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: " قَدِمَ قَوْمِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا قَرَءُوا الْقُرْآنَ، فَلَمَّا قَضَوْا حَوَائِجَهُمْ فَسَأَلُوهُ: مَنْ يَؤُمُّهُمْ؟ فَقَالَ: " أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ". قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَسَأَلُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا أَجْمَعَ أَوْ آخِذًا لِلْقُرْآنِ مِنِّي، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، وَكُنْتُ أُصَلِّي لَهُمْ أَوْ أُصَلِّي بِهِمْ، قَالَ: فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری قوم نبی ﷺ کے پاس آئی، جب انہوں نے قرآن پڑھ لیا اور اپنی ضروریات کو پورا کر لیا تو انہوں نے سوال کیا کہ ان کی امامت کون کروائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن زیادہ یاد کیے ہوئے ہو۔“ جب وہ واپس قوم میں آئے تو انہوں نے اس کے بارے میں سوال کیا، لیکن مجھ سے زیادہ قرآن کسی کو بھی یاد نہیں تھا، انہوں نے مجھے آگے کر دیا اور میں بچہ تھا، میں ان کو نماز پڑھاتا، جب بھی کوئی مجلس ہوتی تو میں ان کا امام ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5139
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني في الذي قبله»
حدیث نمبر: 5140
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوصالح رحمہ اللہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جہاد کروں جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ نہ پڑھ لیں۔ جب وہ کلمہ پڑھ لیں تو انہوں نے اپنے مال اور خون مجھ سے محفوظ کر لیے مگر حق کی وجہ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5140
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 25»