حدیث نمبر: 5143
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ: " مَعَكَ مَاءٌ؟ " فَأَتَيْتُهُ بِمَطْهَرَةٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنَ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، هَكَذَا رَوَاهُ مُسَدَّدٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ نماز سے پیچھے رہ گئے۔ جب آپ ﷺ نے اپنی ضرورت پوری کر لیں تو فرمایا: ”تیرے پاس پانی ہے؟“ میں پانی کا برتن لے کر آیا تو آپ ﷺ نے چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں، پھر آپ ﷺ اپنے بازوؤں سے جبہ اتارنے لگے لیکن جبے کی آستین تنگ تھی، آپ ﷺ نے ہاتھ جبے سے نکال لیا اور جبے کو کندھوں پر ڈال لیا، بازو دھوئے، پھر پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ پھر آپ ﷺ سوار ہوئے تو میں بھی سوار ہوا اور ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے جو نماز پڑھ رہے تھے، ان کو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ ایک رکعت ہو چکی تھی، جب انہوں نے نبی ﷺ کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے ان کو اشارہ کیا تو انہوں نے ہی نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہو گیا اور وہ رکعت ادا کی جو ہم سے رہ گئی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5143
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 274»