السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : لا يأتم مسلم بكافر باب: اس بیان میں کہ ”کوئی مسلمان کسی کافر کی اقتدا نہ کرے“۔
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ "، وَلَمْ تَكُنْ صَلَاةُ الْكَافِرِ إِسْلَامًا مِنْهُ إِذَا لَمْ يَتَكَلَّمْ بِالْإِسْلَامِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کا سب سے زیادہ قاری ہو۔“
اور کسی کافر کا نماز پڑھ لینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ نماز سے پہلے زبانی طور پر اسلام کا اقرار نہ کر لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ الْمِسْمَعِيِّ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں جب تک وہ یہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔ جب انہوں نے یہ کام کیے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“