السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : لا يأتم مسلم بكافر باب: اس بیان میں کہ ”کوئی مسلمان کسی کافر کی اقتدا نہ کرے“۔
حدیث نمبر: 5142
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَصَلُّوا صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، حُرِّمَتْ عَلَيْنَا أَمْوَالُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِ، وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں مشرکین سے لڑائی کروں۔ یہاں تک وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ جب انہوں نے گواہی دے دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور انہوں نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو ان کے مال اور خون ہمارے اوپر حرام ہیں مگر حق کی وجہ سے۔ اس کے لیے بھی وہی احکام ہیں جو مسلمان کے لیے، اس پر بھی وہی ہے جو کسی مسلمان پر ہے۔“