السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب فضل الجماعة والعذر بتركها -- باب: فرض الجماعة في غير الجمعة على الكفاية باب: باجماعت نماز کی فضیلت اور اسے ترک کرنے کے عذر کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جمعہ کے علاوہ نماز باجماعت کے فرض کفایہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ فَقُلْتُ: فِي خَرِبَةٍ دُونَ حِمْصَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ ". قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ.حافظ ثناء اللہ
معدان بن ابی طلحہ یعمری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص سے ورے ایک چھوٹی بستی میں۔ تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس بستی یا دیہات میں تین آدمی ہوں اور وہاں نماز قائم نہ کی جاتی ہو، اس جگہ شیطان کا غلبہ ہوتا ہے۔ تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا دور رہنے والی (بکری) کو کھا جاتا ہے۔“
سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔