حدیث نمبر: 4924
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ همْدَانَ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ يَجْلِسْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِكَ؟ " قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ، قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ هَكَذَا، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے گھر آئے تو نہیں بیٹھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کہاں پسند کریں گے کہ میں آپ کے گھر میں نماز پڑھوں؟“ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا تو نبی ﷺ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنا لیں تو آپ ﷺ نے دو رکعات پڑھیں۔
(ب) ابراہیم کی روایت میں کچھ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ دوپہر کے وقت میرے پاس آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔
(ب) ابراہیم کی روایت میں کچھ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ دوپہر کے وقت میرے پاس آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔
حدیث نمبر: 4925
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ ⦗٧٦⦘ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي، وَإِنَّ السَّيْلَ يَأْتِي فَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، فَإِنْ رَأَيْتَ صَلَّى الله عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَقَالَ: " أَفْعَلُ " فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ؟ " فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ وَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَذَكَرَ فِيهِ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: ”میری نظر ختم ہوگئی اور (بارش کا) سیلاب آتا ہے جو میرے اور مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے، اللہ آپ ﷺ پر رحمت فرمائے، آپ ﷺ میرے گھر آ کر ایک جگہ نماز پڑھ دیں تو میں اس جگہ نماز پڑھ لیا کروں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسا ہی کروں گا۔“ اگلے روز دوپہر کے وقت نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ ﷺ نے اجازت طلب کی تو میں نے اجازت دی، آپ ﷺ بیٹھے نہیں بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہاں پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے گھر میں نماز پڑھوں؟“ میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ ﷺ نماز پڑھیں، آپ ﷺ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہا تو ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنا لیں اور آپ ﷺ نے ہمارے لیے دو رکعتیں پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 4926
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هُدْبَةُ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا وَأَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي أُمُّ حَرَامٍ، فَقَالَ: " قُومُوا فَلَأُصَلِّي بِكُمْ "، وَذَاكَ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ: فَأَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا؟ قَالَ: عَنْ يَمِينِهِ قَالَ: فَدَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللهِ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللهَ لَهُ، فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، فَكَانَ آخِرُ مَا دَعَا لِي: " اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور گھر میں، میں، میری والدہ اور خالہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔“ یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ ایک شخص نے ثابت سے کہا: تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہاں کھڑے ہوئے؟ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کے دائیں جانب، پھر آپ ﷺ نے گھر والوں کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کی دعا کی۔ میری ماں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ ﷺ کا چھوٹا خادم ہے اس کے لیے بھی دعا کریں، تو آپ ﷺ نے میرے لیے بھی ہر بھلائی کی دعا کی۔ آخری جو دعا آپ ﷺ نے میرے لیے کی وہ یہ تھی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! تو اس کا مال اور اولاد زیادہ کر اور اس کے لیے اس میں برکت عطا فرما۔“
حدیث نمبر: 4927
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، وَيَعْقُوبُ قَالَا: ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ يَعْنِي فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ عَنْ عَائِشَةَ، وَغَيْرِهَا مَا دَلَّ عَلَى جَوَازِ النَّافِلَةِ بِالْجَمَاعَةِ، وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى اسْتِحْبَابِهَا، ⦗٧٧⦘ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ فِي قِيَامِهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ، وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ فِعْلِهِ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری۔ نبی ﷺ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے مجھے پکڑ کر دائیں جانب کرلیا۔