السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية إنشاد الضالة في المسجد، وغير ذلك مما لا يليق بالمسجد باب: مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے اور دیگر ایسے کاموں کی کراہت کا بیان جو مسجد کے لائق نہیں ہیں
وَقَدْ أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: ⦗٦٢٨⦘ أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَمَرَّ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَحَظَهُ، فَقَالَ: أَفِي الْمَسْجِدِ؟ فَقَالَ: " وَاللهِ لَقَدْ أَنْشَدْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ " قَالَ: فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجَازَ وَتَرَكَهُ ".سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو ان کو تیز نظروں سے دیکھا اور فرمایا: کیا مسجد میں؟ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب آپ رضی اللہ عنہ سے بہتر موجود تھے یعنی نبی ﷺ۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ ڈرے کہ یہ بات نبی ﷺ کے ذمہ لگا دے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اجازت دی اور چھوڑ دیا۔۔۔
(ب) سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، ان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری جانب سے قریش کو جواب دو، اللہ آپ کی مدد فرمائے جبرائیل کے ذریعے۔“
(ج) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں اشعار پڑھتے تھے، مسجد میں اور مسجد کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے۔