السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية إنشاد الضالة في المسجد، وغير ذلك مما لا يليق بالمسجد باب: مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے اور دیگر ایسے کاموں کی کراہت کا بیان جو مسجد کے لائق نہیں ہیں
حدیث نمبر: 4346
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: " كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا، ایک شخص نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے دیکھا، وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ فرمانے لگے: جاؤ ان دو آدمیوں کو میرے پاس لے کر آؤ، میں لے کر آیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم دونوں کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر تم اس شہر کے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا، تم نبی ﷺ کی مسجد میں آواز کو بلند کر رہے ہو۔