وَقَدْ بَيَّنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
اور اسے رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں واضح فرما دیا ہے جو (بیان کی گئی ہے)۔
وَقَدْ بَيَّنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ وَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي قَالَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا " لَفْظُ حَدِيثِ الْقَاضِي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک اور شخص بھی مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی ﷺ کو سلام کہا، آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”جاؤ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ حتیٰ کہ آپ ﷺ نے اس طرح تین بار فرمایا۔ اس شخص نے کہا: اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے بتلا دیں اور سکھا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ، پھر قرآن سے جو تجھے صحیح یاد ہو پڑھ، پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کر، اس کے بعد سر اٹھا حتیٰ کہ تو سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر انتہائی اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا۔ اسی طرح اپنی پوری نماز میں کر۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْجَوَالِيقِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ لَهُ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبَغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَنْهُ مَا أَثْبَتَهُ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِهِ ثَانِيًا: " ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا " وَلَمْ يَحْفَظْهُ ⦗٥٢١⦘ أَيْضًا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، عَنْ عَبْدَانَ، وَتِلْكَ زِيَادَةٌ مَحْفُوظَةٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ نماز کے بعد اس نے آ کر آپ کو سلام کہا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”لوٹ جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ لوٹ گیا اور نماز پڑھی پھر آیا اور سلام کیا، آپ ﷺ نے پھر وہی الفاظ فرمائے۔ جب تیسری بار آپ نے اسے واپس بھیجا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سکھلا دیجیے۔ آپ ﷺ نے اسے بتایا: ”جب نماز کے لیے کھڑا ہونے لگے تو پہلے اچھی طرح وضو کر لیا کر، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ، اس کے بعد جو قرآن آسانی سے تجھے یاد ہو وہ پڑھ، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ رکوع کر، پھر رکوع سے سر اٹھا کر اطمینان سے سیدھا کھڑا ہو جا، پھر انتہائی اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر برابر ہو کر اطمینان سے بیٹھ جا، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرا سجدہ کر، پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کر۔“
(ب) صحیح مسلم میں دوسری مرتبہ یہ الفاظ نہیں ہیں: «ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا» ”پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرنے والا ہو جائے، پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے۔“
(ج) اس حدیث کو انس بن عیاض رحمہ اللہ نے عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے: ”جب تو اس طرح نماز ادا کرے گا تو تیری نماز مکمل ہو گی، اگر اس میں سے کچھ کمی کرے گا تو وہ تیری نماز میں کمی ہو گی۔“ اور اس میں یہ بھی ہے: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر لیا کر۔“
(ب) صحیح مسلم میں دوسری مرتبہ یہ الفاظ نہیں ہیں: «ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا» ”پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرنے والا ہو جائے، پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے۔“
(ج) اس حدیث کو انس بن عیاض رحمہ اللہ نے عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے: ”جب تو اس طرح نماز ادا کرے گا تو تیری نماز مکمل ہو گی، اگر اس میں سے کچھ کمی کرے گا تو وہ تیری نماز میں کمی ہو گی۔“ اور اس میں یہ بھی ہے: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر لیا کر۔“
وَرَوَاهُ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَزَادَ فِي آخِرِهِ: " فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا فَإِنَّمَا أَنْقَصْتَهُ مِنْ صَلَاتِكَ " وَقَالَ فِيهِ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبَغِ الْوُضُوءَ "، وَلَمْ يُثْبِتْ مَا أَثْبَتَهُ أَبُو أُسَامَةَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت منقول ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، مِنْ آلِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ وَنَحْنُ لَا نَشْعُرُ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي، فَقَالَ لَهُ: " إِذَا قُمْتَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ وَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَاطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ اس کی نماز کو غور سے دیکھتے رہے، ہمیں معلوم نہیں تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔“ وہ واپس پلٹا پھر جا کر دوبارہ نماز پڑھی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر سلام عرض کیا، آپ ﷺ نے اسے کہا: ”جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔“ دو مرتبہ یا تین مرتبہ اس طرح ہوا تو اس شخص نے عرض کیا: اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو عزتوں سے نوازا ہے اے اللہ کے رسول! میں کوشش کر چکا ہوں اب آپ مجھے سکھا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ پھر قرأت کر، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کر پھر رکوع سے سیدھا کھڑا ہو جا پھر اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے اٹھ کر اطمینان سے برابر ہو کر بیٹھ جا۔ اس کے بعد دوسرا سجدہ اطمینان کے ساتھ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا، پھر اسی طرح کر حتیٰ کہ تو نماز سے فارغ ہو جائے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ، فَقَامَ فِي نَاحِيَةٍ مِنْهُ يُصَلِّي، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ مِنَ الزِّيَادَةِ " ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ " وَقَالَ فِي السُّجُودِ الثَّانِي: " ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُ مِنْ صَلَاتِكَ " رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، مِنْ رِوَايَةِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى عَنْهُ وَقَصُرَ بِهِ ⦗٥٢٢⦘ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَقَالَ: عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ عَمِّهِ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ مَنْ تَقَدَّمَ، وَافَقَهُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَقَصُرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِنَسَبِ يَحْيَى وَبَعْضُهُمْ بِإِسْنَادِهِ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ مَنْ حَفِظَ، وَالرِّوَايَةُ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا بِسِيَاقِهَا مُوَافَقَةٌ لِلْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ يَزِيدُ فِي أَلْفَاظِهَا وَيُنْقِصُ وَلَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن یحییٰ زُرقی رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، ان کے چچا بدری صحابی رضی اللہ عنہ تھے، فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک مسجد میں ایک شخص داخل ہوا۔ اس نے مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھی۔۔۔ انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”پھر کھڑا ہو کر قبلے کی طرف منہ کرلے“ اور دوسرے سجدے کے بارے میں فرمایا: ”پھر انتہائی اطمینان کے ساتھ سجدہ کر۔ جب تو اس طرح کرے گا تیری نماز مکمل ہوجائے گی اور اگر اس سے کوئی کمی کرے گا تو گویا تو اپنی نماز میں کوتاہی کررہا ہے۔“