کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نماز کے اعمال میں سے کم از کم جو کفایت کر جائے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: مطلق قراءت کو جو ہم نے روایت کی ہے، سورہ فاتحہ کے ساتھ متعین کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3947
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي يَوْمًا وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ مَا تَرَى فَعَلِّمْنِي كَيْفَ أُصَلِّي؟ فَقَالَ لَهُ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبَغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ كَبِّرْ، فَإِذَا اسْتَوَيْتَ قَائِمًا قَرَأْتَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ قَرَأْتَ بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ رَكَعْتَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا وَتَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ تَسْجُدُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے کہ آپ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب وہ آدمی نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر سلام کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”«وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ”تم پر بھی سلامتی ہو“، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ واپس پلٹا، دوبارہ نماز پڑھی، پھر آ کر نبی ﷺ کو سلام کہا۔ آپ ﷺ نے اسے اسی طرح فرمایا۔ اس شخص نے دو یا تین بار نماز پڑھی، پھر بولا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا جس طرح کی آپ دیکھ رہے ہیں، لہٰذا آپ مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر، پھر تکبیر کہہ، جب تو سیدھا کھڑا ہو تو سورۃ فاتحہ پڑھ۔ پھر جو قرآن تجھے یاد ہو وہ پڑھ، پھر انتہائی اطمینان کے ساتھ رکوع کر۔ اس کے بعد رکوع سے سر اٹھا کر بالکل سیدھا کھڑا ہو جا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہہ، پھر نہایت اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا، اطمینان سے بیٹھ جا، پھر اسی طرح اپنی مکمل نماز میں کر۔“
حدیث نمبر: 3948
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى نَحْوِ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ، وَمَا نَقَصْتَ مِنْ هَذَا فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ " ⦗٥٢٣⦘ أَحَالَ ابْنُ وَهْبٍ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ عَلَى مَا مَضَى، وَرَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ فَلَمْ يُثْبِتْ تَعْيِينَ الْقِرَاءَةِ وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، فَسَاقَ الْحَدِيثَ وَذَكَرَ فِيهِ قِرَاءَةَ أُمِّ الْقُرْآنِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن خلاد زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے میرے والد نے اپنے بدری چچا رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو فرمایا: ”جب تو اس طرح کر کے اپنی نماز مکمل کرے تو تو نے نماز مکمل کر لی اور اس سے جو بھی تو کمی کرے گا تو تیری نماز میں کمی ہی ہوگی۔“
حدیث نمبر: 3949
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: " إِذَا قُمْتَ فَتَوَجَّهْتَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَقْرَأَ، وَإِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ " وَقَالَ: " إِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاقْعُدْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ اس قصہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ، پھر «أُمَّ الْقُرْآنِ» ”ام القرآن“ اور جو اللہ چاہے پڑھ۔ جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ اور اپنی کمر کو لمبا برابر کر دے، اور جب تو سجدہ کرے تو اچھی طرح سجدہ کر، اور جب سجدے سے سر اٹھائے تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ۔“
حدیث نمبر: 3950
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے سورہ فاتحہ اور اس سے کچھ زیادہ نہ پڑھا۔“
حدیث نمبر: 3951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَبَلَةَ قَالَ: ثنا الْحُلْوَانِيُّ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ⦗٥٢٤⦘ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الَّذِي، مَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ جن کے چہرے پر انہی کے کنویں کے پانی سے رسول اللہ ﷺ نے کلی کی تھی، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے سورۃ فاتحہ نہ پڑھی۔“
حدیث نمبر: 3952
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْقَاضِي مِنْ أَصْلِهِ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى الْمَاسَرْجِسِيُّ ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ، جَمِيعًا وَكَانَا جَلِيسَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَا: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَعْنِي يَقُولُ اللهُ: " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ عَبْدِي: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢] يَقُولُ اللهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَيَقُولُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١] فَيَقُولُ اللهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي يَقُولُ عَبْدِي: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ اللهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي يَقُولُ عَبْدِي: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: ٥] فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَآخَرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ عَبْدِي: {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ} [الفاتحة: ٦] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں «أُمُّ الْقُرْآنِ» ”ام القرآن“ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے۔“ ابو سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انہوں نے میرے بازو کو پکڑ کر فرمایا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر لیا ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جس کا اس نے سوال کیا۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت بیان کی۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جس کا اس نے سوال کیا۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ [سورة الفاتحة: 6] آخر سورت تک۔“
حدیث نمبر: 3953
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ فِي الْمَدِينَةِ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں مدینہ میں اعلان کر دوں کہ ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 3954
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ الْمَدَنِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَصَرَخَ بِهِ، فَقَالَ: " تَعَالَى يَا أُبَيُّ " فَعَجَّلَ أُبَيٌّ فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا مَنَعَكَ يَا أُبَيُّ أَنْ تُجِيبَنِي إِذْ دَعَوْتُكَ، أَلَيْسَ اللهُ تَعَالَى يَقُولُ {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهَ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} الْآيَةَ؟ " قَالَ: أُبَيٌّ: جَرَمَ يَا رَسُولَ اللهِ، لَا تَدْعُونِي إِلَّا أَجَبْتُكَ وَإِنْ كُنْتُ مُصَلِّيًا. قَالَ: " تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ تَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا؟ " فَقَالَ أُبَيٌّ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " لَا تَخْرُجْ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَهَا " وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ لِيَخْرُجَ قَالَ لَهُ: أِيُّ السُّورَةِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَوَقَفَ، فَقَالَ: " نَعَمْ كَيْفَ تَقْرَأُ فِي صَلَاتِكَ؟ " فَقَرَأَ أُبَيٌّ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا، وَإِنَّهَا لَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّذِي آتَانِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " وَرَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِمَعْنَاهُ فِي قِصَّةِ الْفَاتِحَةِ دُونَ قِصَّةِ الْإِجَابَةِ، وَرَوَاهُ جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَخَالَفَهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، فَرَوَاهُ عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے انہیں بلایا: ”اے ابی! ادھر آؤ“ تو ابی رضی اللہ عنہ نے جلدی جلدی نماز پڑھی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے ابی! تمہیں کیا چیز مانع تھی جب میں نے تمہیں بلایا تم آئے نہیں؟ کیا تم نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”اے ایمان والو! اللہ کی بات مانو اور رسول اللہ ﷺ کی بات پر لبیک کہو جب بھی وہ بلائیں“؟“ تو ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے غلطی کی ہے، آپ جب بھی مجھے بلائیں میں آپ کی پکار پر لبیک کہوں گا، اگرچہ میں نماز ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تجھے ایک ایسی سورت سکھاؤں جو اللہ نے نہ انجیل میں نازل کی اور نہ توراۃ میں، نہ زبور میں ہے اور نہ اس کی مثل بقیہ قرآن میں ہے؟“ ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے! آپ نے فرمایا: ”اس سورت کو سیکھنے سے پہلے مسجد سے نہ نکلنا“ اور نبی ﷺ چلتے چلتے مسجد سے نکلنے لگے، جب نکلنے کے لیے دروازے تک پہنچے تو ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: سورت، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ ﷺ رک گئے، پھر فرمایا: ”اچھا ہاں! تو اپنی نماز میں کیا قرات کرتا ہے؟“ ابی رضی اللہ عنہ نے ام القرآن کی تلاوت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس جیسی سورت نہ توراۃ میں اتاری گئی، نہ انجیل میں نازل ہوئی، نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں اس کی مثل کوئی سورت ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو اللہ نے مجھے عطا کی ہے۔“
ایک دوسری سند سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس کے معنیٰ میں روایت منقول ہے، وہ سورت فاتحہ کے قصہ میں ہے، دورانِ نماز جواب دینے کا قصہ اس کے علاوہ ہے۔
ایک دوسری سند سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس کے معنیٰ میں روایت منقول ہے، وہ سورت فاتحہ کے قصہ میں ہے، دورانِ نماز جواب دینے کا قصہ اس کے علاوہ ہے۔