السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْأُمُورِ الَّتِي لَا تَتِمُّ الصَّلَاةُ إِلَّا بِهَا باب: وہ کام جن کے بغیر نماز نامکمل ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ، فَقَامَ فِي نَاحِيَةٍ مِنْهُ يُصَلِّي، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ مِنَ الزِّيَادَةِ " ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ " وَقَالَ فِي السُّجُودِ الثَّانِي: " ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُ مِنْ صَلَاتِكَ " رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، مِنْ رِوَايَةِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى عَنْهُ وَقَصُرَ بِهِ ⦗٥٢٢⦘ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَقَالَ: عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ عَمِّهِ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ مَنْ تَقَدَّمَ، وَافَقَهُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَقَصُرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِنَسَبِ يَحْيَى وَبَعْضُهُمْ بِإِسْنَادِهِ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ مَنْ حَفِظَ، وَالرِّوَايَةُ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا بِسِيَاقِهَا مُوَافَقَةٌ لِلْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ يَزِيدُ فِي أَلْفَاظِهَا وَيُنْقِصُ وَلَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.علی بن یحییٰ زُرقی رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، ان کے چچا بدری صحابی رضی اللہ عنہ تھے، فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک مسجد میں ایک شخص داخل ہوا۔ اس نے مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھی۔ انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”پھر کھڑا ہو کر قبلے کی طرف منہ کرلے“ اور دوسرے سجدے کے بارے میں فرمایا: ”پھر انتہائی اطمینان کے ساتھ سجدہ کر۔ جب تو اس طرح کرے گا تیری نماز مکمل ہوجائے گی اور اگر اس سے کوئی کمی کرے گا تو گویا تو اپنی نماز میں کوتاہی کررہا ہے۔“
جو روایت ہم نے اس کے سیاق کے ساتھ ذکر کی ہے وہ اس بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ثابت حدیث کے موافق ہے، اگرچہ ان میں سے بعض راوی اس کے الفاظ میں کمی بیشی کرتے ہیں، اور اس باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے زیادہ صحیح کوئی حدیث نہیں۔ واللہ اعلم۔