السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْأُمُورِ الَّتِي لَا تَتِمُّ الصَّلَاةُ إِلَّا بِهَا باب: وہ کام جن کے بغیر نماز نامکمل ہے۔
حدیث نمبر: 3944
وَرَوَاهُ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَزَادَ فِي آخِرِهِ: " فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا فَإِنَّمَا أَنْقَصْتَهُ مِنْ صَلَاتِكَ " وَقَالَ فِيهِ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبَغِ الْوُضُوءَ "، وَلَمْ يُثْبِتْ مَا أَثْبَتَهُ أَبُو أُسَامَةَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
اس حدیث کو انس بن عیاض رحمہ اللہ نے عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے: ”جب تو اس طرح نماز ادا کرے گا تو تیری نماز مکمل ہو گی، اگر اس میں سے کچھ کمی کرے گا تو وہ تیری نماز میں کمی ہو گی۔“ اور اس میں یہ بھی ہے: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر لیا کر۔“ اور انہوں نے وہ الفاظ ذکر نہیں کیے جو ابو اسامہ نے حدیث کے آخر میں ذکر کیے ہیں۔