❮
❯
حدیث نمبر: 3943
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْجَوَالِيقِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ لَهُ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبَغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَنْهُ مَا أَثْبَتَهُ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِهِ ثَانِيًا: " ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا " وَلَمْ يَحْفَظْهُ ⦗٥٢١⦘ أَيْضًا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، عَنْ عَبْدَانَ، وَتِلْكَ زِيَادَةٌ مَحْفُوظَةٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ نماز کے بعد اس نے آ کر آپ کو سلام کہا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”لوٹ جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ لوٹ گیا اور نماز پڑھی پھر آیا اور سلام کیا، آپ ﷺ نے پھر وہی الفاظ فرمائے۔ جب تیسری بار آپ نے اسے واپس بھیجا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سکھلا دیجیے۔ آپ ﷺ نے اسے بتایا: ”جب نماز کے لیے کھڑا ہونے لگے تو پہلے اچھی طرح وضو کر لیا کر، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ، اس کے بعد جو قرآن آسانی سے تجھے یاد ہو وہ پڑھ، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ رکوع کر، پھر رکوع سے سر اٹھا کر اطمینان سے سیدھا کھڑا ہو جا، پھر انتہائی اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر برابر ہو کر اطمینان سے بیٹھ جا، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرا سجدہ کر، پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کر۔“
(ب) صحیح مسلم میں دوسری مرتبہ یہ الفاظ نہیں ہیں: «ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا» ”پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرنے والا ہو جائے، پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے۔“ ابوبکر اسماعیلی نے بھی عبدان سے یہ الفاظ محفوظ نہیں کیے، حالانکہ یہ اضافہ اس حدیث میں ابو اسامہ سے کئی سندوں سے محفوظ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3943
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 6251، أخرجه مسلم 397»