کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو سجدہ سہو کرنا بھول گیا پھر (نماز سے) پھر گیا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا شَاذَانُ، أنبأ شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " لَا " قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ، وَلَمْ يَذْكُرْ شَاذَانُ الظُّهْرَ، وَقَالَ: " فَلَمَّا انْصَرَفَ " وَقَالَ " فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ كَمَا مَضَى، وَرُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھیں، جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: ”کیا نماز میں کوئی اضافہ ہو گیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: ”آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں،“ تو آپ ﷺ نے دو سجدے کیے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں ظہر کا ذکر نہیں ہے، اس میں ہے کہ جب وہ نماز سے پھرے تو سہو کے دو سجدے کیے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں ظہر کا ذکر نہیں ہے، اس میں ہے کہ جب وہ نماز سے پھرے تو سہو کے دو سجدے کیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ قَالَ: صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي فَسَهَوْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُ الضَّحَاكَ يَعْنِي ابْنَ مُزَاحِمٍ فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي فَسَهَوْتُ فَقَالَ: " اسْجُدِ الْآنَ ".
حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن نبیط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے گھر میں نماز پڑھی تو دورانِ نماز مجھ سے سہو ہو گیا، پھر میں ضحاک بن مزاحم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں کہا کہ میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھی تو میں بھول گیا تھا، انہوں نے کہا: اب سجدہ سہو کر لو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْغَازِي، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، ثنا الرَّبِيعُ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " إِذَا سَهَا فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب آدمی مسجد میں بھول جائے اور سجدہ سہو نہ کرے حتیٰ کہ مسجد سے نکل جائے تو اس پر کچھ بھی نہیں۔