کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس قول کا بیان جس نے قنوت چھوٹ جانے پر سجدہ (سہو) کو ضروری نہیں سمجھا
حدیث نمبر: 3877
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَقْنُتْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو آپ ﷺ نے قنوت نہیں پڑھی۔
حدیث نمبر: 3878
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي عَنِ الْقُنُوتِ فَقَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ فَعَلَهُ قَطُّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مالک اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، میں نے نہیں دیکھا کہ ان میں سے کسی نے کبھی قنوت پڑھی ہو۔
حدیث نمبر: 3879
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَا: " صَلَّيْنَا خَلْفَ عُمَرَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَقْنُتْ " وَقَدْ رُوِّينَا فِي بَابِ الْقُنُوتِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَاءِ بَعْدَهُ أَنَّهُمْ قَنَتُوا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَمَشْهُورٌ عَنْ عُمَرَ مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَئِنْ تَرَكُوهُ فِي بَعْضِ الْأَحَايِينِ سَهْوًا أَوْ عَمْدًا دَلَّ ذَلِكَ عَلَى كَوْنِهِ غَيْرَ وَاجِبٍ، وَحِينَ لَمْ يَنْقُلْ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ لِذَلِكَ دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا سُجُودَ فِي السَّهْوِ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) اسود اور عمرو بن میمون رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی، آپ ﷺ نے قنوت نہیں پڑھی۔
(ب) قنوت کے باب میں ہم رسول اللہ ﷺ سے اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے یہ روایت نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔ صحیح سند کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے، اگر ان لوگوں نے بعض حالات میں سہواً یا عمداً قنوت چھوڑ بھی دی تو یہ اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتا ہے اور ان میں سے کسی ایک سے بھی منقول نہیں ہے کہ انہوں نے سہو کے سجدے کیے ہوں، لہٰذا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قنوت کے بھول جانے سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا۔ واللہ اعلم۔
(ب) قنوت کے باب میں ہم رسول اللہ ﷺ سے اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے یہ روایت نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔ صحیح سند کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے، اگر ان لوگوں نے بعض حالات میں سہواً یا عمداً قنوت چھوڑ بھی دی تو یہ اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتا ہے اور ان میں سے کسی ایک سے بھی منقول نہیں ہے کہ انہوں نے سہو کے سجدے کیے ہوں، لہٰذا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قنوت کے بھول جانے سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا۔ واللہ اعلم۔