السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن سجدتي السهو للسهو نافلة باب: اس بات کی دلیل کہ سہو کے دونوں سجدے نفل (غیر واجب) ہیں
حدیث نمبر: 3883
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلَاتِهِ وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ مُرْغِمَتَيِ الشَّيْطَانِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے متعلق شک پڑ جائے تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے اور جب نماز مکمل ہو جائے تو دو سجدے کر لے، اگر اس کی نماز پہلے ہی مکمل تھی تو یہ رکعت اور دو سجدے نفل ہو جائیں گے اور اگر نماز نہیں پڑھی تو یہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعثِ ذلت و رسوائی ہوں گے۔“