کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ناک پر (بھی) سجدہ کرنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ " وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلَا نَكُفَّ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعْرَ، وَفِي حَدِيثِ مُعَلًّى: وَلَا أَكُفَّ الثَّوْبَ وَلَا الشَّعْرَ " وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَا نَكْفِتَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ وُهَيْبٍ كَذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی ناک، دونوں ہاتھوں، گھٹنوں اور پاؤں کے کناروں کی طرف اشارہ کیا اور حکم دیا کہ: ”ہم اپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔“ معلی کی حدیث میں ہے کہ: ”میں اپنے بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ الشَّعَرَ وَلَا الثِّيَابَ: الْجَبْهَةِ وَالْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَا أَكْفِتَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سات اعضا پر سجدے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں اور وہ سات چیزیں یہ ہیں: پیشانی، ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔“
مسلم کے الفاظ میں «لَا أَكُفَّ» کی جگہ «لَا أَكْفِتَ» کے الفاظ ہیں۔
مسلم کے الفاظ میں «لَا أَكُفَّ» کی جگہ «لَا أَكْفِتَ» کے الفاظ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ مِنْهُ عَلَى سَبْعَةٍ يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ وَجَبْهَتِهِ، وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ مِنْهُ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ " قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ ابْنُ طَاوُسٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَّ بِهَا عَلَى أَنْفِهِ حَتَّى بَلَغَ بِهَا طَرَفَ أَنْفِهِ قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَعُدُّ هَذَا وَاحِدًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جن اعضا پر سجدے کا حکم دیا گیا وہ سات ہیں: ”دو ہاتھ، دونوں گھٹنے، پاؤں کی انگلیوں کے کنارے اور پیشانی“ اور ”کپڑوں اور بالوں کو سمیٹنے“ سے منع کیا گیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ابن طاؤس نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا، پھر اس کو اپنی ناک پر سے گزارا یہاں تک کہ ناک کے کنارے تک لے آئے اور فرمایا کہ میرے والد اس (پورے) کو ایک ہی ہڈی شمار کرتے تھے۔
سفیان کہتے ہیں کہ ابن طاؤس نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا، پھر اس کو اپنی ناک پر سے گزارا یہاں تک کہ ناک کے کنارے تک لے آئے اور فرمایا کہ میرے والد اس (پورے) کو ایک ہی ہڈی شمار کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗١٤٩⦘ إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَمْرٌو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَنُهِيَ " قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ أَنْ يَكُفَّ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ، وَقَالَ عَمْرُو: يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ قَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِ عَمْرٍو أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ: جَبْهَتِهِ وَيَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ قَالَ سُفْيَانُ: إِلَّا أَنَّ ابْنَ طَاوُسٍ أَخْبَرَنَا أَنَّ طَاوُسًا كَانَ يَقُولُ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ، وَأَمَرَّ ابْنُ طَاوُسٍ يَدَهُ عَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: كَانَ أَبِي يَقُولُ: هُوَ وَاحِدٌ، وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ذِكْرَ الْأَنْفِ فِي الْحَدِيثِ مِنْ تَفْسِيرِ طَاوُسٍ وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا دُونَ التَّفْسِيرِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”آپ ﷺ کو سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور روکا گیا ہے“۔۔۔ ابن طاؤس کی روایت میں ہے کہ ”اپنے بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے“ اور عمرو کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: «كَفُّ شَعْرِهِ وَثِيَابِهِ» ”بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹے۔“
سفیان کہتے ہیں کہ ابن طاؤس نے بتایا کہ طاؤس اپنے ہاتھ سے پیشانی اور ناک کی طرف اشارہ کرتے تھے اور ابن طاؤس نے ایسا کر کے دکھایا اور فرمایا: میرے والد کہا کرتے تھے کہ ناک اور پیشانی ایک ہی ہیں، باقی چھ دو ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان کی روایت میں ناک کا ذکر طاؤس کی تفسیر ہے، جب کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے ”صحیح مسلم“ میں ابن طاؤس کی روایت مختصراً ذکر کی ہے، اس میں تفسیر نہیں ہے۔
سفیان کہتے ہیں کہ ابن طاؤس نے بتایا کہ طاؤس اپنے ہاتھ سے پیشانی اور ناک کی طرف اشارہ کرتے تھے اور ابن طاؤس نے ایسا کر کے دکھایا اور فرمایا: میرے والد کہا کرتے تھے کہ ناک اور پیشانی ایک ہی ہیں، باقی چھ دو ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان کی روایت میں ناک کا ذکر طاؤس کی تفسیر ہے، جب کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے ”صحیح مسلم“ میں ابن طاؤس کی روایت مختصراً ذکر کی ہے، اس میں تفسیر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ مِنْهُ عَلَى سَبْعَةٍ " قَالَ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ: قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ الْأَنْفَ قَالَ: هُوَ خَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی ﷺ کو جن اعضا پر سجدے کا حکم دیا گیا وہ سات ہیں۔“ ابن میسرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! کیا ناک بھی ان میں شامل ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ تو بدرجہ اولیٰ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف فرماتے تھے، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے یہ رات دیکھ لی تھی۔ پھر مجھے یہ بھلا دی گئی۔ البتہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں صبح کے وقت کیچڑ (پانی اور مٹی) میں سجدہ ریز ہوں۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کے نشان اکیسویں کی صبح کو دیکھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ⦗١٥٠⦘ الْغَيْلَانِيُّ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ لَمْ يَمَسَّ أَنْفُهُ الْأَرْضَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يَمَسُّ أَنْفُهُ الْأَرْضَ مَا يَمَسُّ الْجَبِينُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، جب اس نے سجدہ کیا تو اپنی ناک کو زمین پر نہ لگایا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز قبول نہیں جو سجدے میں پیشانی تو زمین پر رکھے مگر ناک نہ رکھے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ شُعْبَةَ وَالثَّوْرِيِّ، كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ بِمَعْنَاهُ ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ: لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ إِلَّا أَبُو قُتَيْبَةَ، وَالصَّوَابُ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو قتیبہ رحمہ اللہ نے شعبہ اور ثوری رحمہما اللہ کی روایات کو اسی معنیٰ میں الگ الگ روایت کیا ہے، دراصل یہ مرسل روایت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ لَا يَضَعُ أَنْفَهُ إِذَا سَجَدَ، فَقَالَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ لَا يُصِيبُ الْأَنْفُ مِنَ الْأَرْضِ مَا يُصِيبُ الْجَبِينُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَرُوِيَ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بَعْضُ مَعْنَاهُ مِنْ قَوْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی ایسے مرد یا عورت کے پاس سے گزرے، جو سجدے میں ناک زمین پر نہیں لگا رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسی نماز قبول نہیں فرماتا جس میں آدمی کی ناک اس چیز کو نہ چھوئے جسے اس کی پیشانی چھوتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ وَأَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ أَنْفَكَ عَلَى الْأَرْضِ مَعَ جَبْهَتِكَ " وَفِي حَدِيثِ الصَّفَّارِ " ثُمَّ جَبْهَتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جب تو سجدہ کرے تو اپنی پیشانی کے ساتھ ساتھ ناک بھی زمین پر رکھ۔“ صفار کی حدیث میں «مَعَ جَبْهَتِكَ» کی جگہ «ثُمَّ جَبْهَتِكَ» کے الفاظ ہیں یعنی ”پھر اپنی پیشانی رکھ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، أنبأ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ أَنْفَهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَإِنَّكُمْ قَدْ أُمِرْتُمْ بِذَلِكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ وَرَوَاهُ حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ ⦗١٥١⦘ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعْ أَنْفَكَ لِيَسْجُدَ مَعَكَ " قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب بھی تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنی ناک کو زمین پر ضرور رکھے، کیونکہ تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے۔
(ب) اسی طرح شریک نے یہ روایت سماک سے نقل کی ہے، وہ بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ناک کو زمین پر رکھ تاکہ تمہاری ناک بھی تمہارے ساتھ سجدہ کرے۔“
(ج) امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عکرمہ کی روایت نبی کریم ﷺ سے مرسلاً منقول ہے۔
(ب) اسی طرح شریک نے یہ روایت سماک سے نقل کی ہے، وہ بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ناک کو زمین پر رکھ تاکہ تمہاری ناک بھی تمہارے ساتھ سجدہ کرے۔“
(ج) امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عکرمہ کی روایت نبی کریم ﷺ سے مرسلاً منقول ہے۔