السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في السجود على الأنف باب: ناک پر (بھی) سجدہ کرنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 2648
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ مِنْهُ عَلَى سَبْعَةٍ يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ وَجَبْهَتِهِ، وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ مِنْهُ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ " قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ ابْنُ طَاوُسٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَّ بِهَا عَلَى أَنْفِهِ حَتَّى بَلَغَ بِهَا طَرَفَ أَنْفِهِ قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَعُدُّ هَذَا وَاحِدًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جن اعضا پر سجدے کا حکم دیا گیا وہ سات ہیں: ”دو ہاتھ، دونوں گھٹنے، پاؤں کی انگلیوں کے کنارے اور پیشانی“ اور ”کپڑوں اور بالوں کو سمیٹنے“ سے منع کیا گیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ابن طاؤس نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا، پھر اس کو اپنی ناک پر سے گزارا یہاں تک کہ ناک کے کنارے تک لے آئے اور فرمایا کہ میرے والد اس (پورے) کو ایک ہی ہڈی شمار کرتے تھے۔