السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في السجود على الأنف باب: ناک پر (بھی) سجدہ کرنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗١٤٩⦘ إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَمْرٌو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَنُهِيَ " قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ أَنْ يَكُفَّ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ، وَقَالَ عَمْرُو: يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ قَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِ عَمْرٍو أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ: جَبْهَتِهِ وَيَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ قَالَ سُفْيَانُ: إِلَّا أَنَّ ابْنَ طَاوُسٍ أَخْبَرَنَا أَنَّ طَاوُسًا كَانَ يَقُولُ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ، وَأَمَرَّ ابْنُ طَاوُسٍ يَدَهُ عَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: كَانَ أَبِي يَقُولُ: هُوَ وَاحِدٌ، وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ذِكْرَ الْأَنْفِ فِي الْحَدِيثِ مِنْ تَفْسِيرِ طَاوُسٍ وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا دُونَ التَّفْسِيرِ.ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”آپ ﷺ کو سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور روکا گیا ہے“۔۔۔ ابن طاؤس کی روایت میں ہے کہ ”اپنے بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے“ اور عمرو کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: «كَفُّ شَعْرِهِ وَثِيَابِهِ» ”بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹے۔“
سفیان کہتے ہیں کہ ابن طاؤس نے بتایا کہ طاؤس اپنے ہاتھ سے پیشانی اور ناک کی طرف اشارہ کرتے تھے اور ابن طاؤس نے ایسا کر کے دکھایا اور فرمایا: میرے والد کہا کرتے تھے کہ ناک اور پیشانی ایک ہی ہیں، باقی چھ دو ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان کی روایت میں ناک کا ذکر طاؤس کی تفسیر ہے، جب کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے ”صحیح مسلم“ میں ابن طاؤس کی روایت مختصراً ذکر کی ہے، اس میں تفسیر نہیں ہے۔