وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْغَفَّارِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَتْ: غَسَّلَ سَعْدٌ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ وَحَنَّطَهُ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَالَ لَنَا: " إِنِّي لَمْ أَغْتَسِلْ مِنْ غُسْلِي إِيَّاهُ وَلَكِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْحَرِّ ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو غسل دیا اور ان کو خوشبو لگائی، پھر گھر آئے، غسل کیا اور ہم سے کہا: میں نے ان کو غسل دینے کی وجہ سے غسل نہیں کیا بلکہ گرمی کی وجہ سے غسل کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ مِنْ كِتَابٍ عَتِيقٍ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي أَبِي يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِنْ كَانَ صَاحِبُكُمْ نَجِسًا فَاغْتَسِلُوا وَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا فَلِمَ نَغْتَسِلُ مِنَ الْمُؤْمِنِ؟ " إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تمہارا ساتھی ناپاک ہے تو تم غسل کرو اور اگر مؤمن ہے تو ہم مؤمن سے غسل کیوں کریں؟ اس کی سند قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قُمْتُ إِلَى أَنَسٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوُضُوءِ مِنَ الْجَنَائِزِ فَقَالَ: " إِنَّمَا كُنَّا فِي صَلَاةٍ وَرَجَعْنَا إِلَى صَلَاةٍ فَلَا وُضُوءَ ".
حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اس مسجد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ایک جانب کھڑا ہوا، میں نے جنازے سے وضو کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: پہلے ہم نماز میں تھے اور اب ہم نماز (جنازہ) کی طرف ہی لوٹے (ہیں لہٰذا) کوئی وضو نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: " سُبْحَانَ اللهِ أَمْوَاتُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْجَاسٌ وَهَلْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ أَخَذَ عُودًا فَحَمَلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ کیا مومنوں کی میتیں ناپاک ہیں؟! یہ تو ایسے ہے جیسے ایک آدمی نے لکڑی پکڑی اور اس کو اٹھا لیا (یعنی مردے ناپاک نہیں ہیں)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا تَقُولِينَ فِي الْعِرَاكِ؟ قَالَتِ: " الْحَيْضَ تَعْنُونَ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ قَالَتْ: " سَمُّوهُ كَمَا سَمَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن بابنوس فرماتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ «الْعِرَاكِ» ”عراک“ کے متعلق کیا فرماتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”تم حیض مراد لیتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: ”اس کو وہی نام دو جو اللہ نے دیا ہے۔“