حدیث نمبر: 1474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَضْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ جَزْرَةُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو حَاتِمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَمُّويَهْ أَبُو سِنَانٍ الْبَلْخِيُّ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: ثنا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى أَوِ الْفِطْرِ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا " ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ " فَقُلْنَ: وَلَمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبُ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ " فَقُلْنَ لَهُ: وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِنَا وَدِينِنَا؟ قَالَ: " أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ نِصْفِ شَهَادَةُ الرَّجُلِ؟ " قُلْنَ: بَلَى قَالَ: " فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ ⦗٤٦٠⦘ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ " قُلْنَ: بَلَى قَالَ: " فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عید الاضحی یا عید الفطر کو عید گاہ کی طرف نکلے، پھر نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو نصیحت کی اور ان کو صدقے کا حکم دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! صدقہ کرو۔“ پھر آپ ﷺ واپس عورتوں کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، میں نے تمہاری اکثریت کو آگ میں دیکھا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اکثر لعن طعن کرتی رہتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی رہتی ہو، میں نے نہیں دیکھا کہ کم عقل اور کم دین والی عقلمند آدمی کی عقل کو لے جاتی ہوں مگر تمہیں اے عورتوں کی جماعت۔“ انہوں نے آپ ﷺ سے کہا: ہماری عقل اور دین کا کیا نقصان ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہاری عقل کا نقصان ہے، اور کیا ایسا نہیں کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزے رکھتی ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارے دین کا نقصان ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحيض / حدیث: 1474
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 1393»