السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1471
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قُمْتُ إِلَى أَنَسٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوُضُوءِ مِنَ الْجَنَائِزِ فَقَالَ: " إِنَّمَا كُنَّا فِي صَلَاةٍ وَرَجَعْنَا إِلَى صَلَاةٍ فَلَا وُضُوءَ ".حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اس مسجد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ایک جانب کھڑا ہوا، میں نے جنازے سے وضو کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: پہلے ہم نماز میں تھے اور اب ہم نماز (جنازہ) کی طرف ہی لوٹے (ہیں لہٰذا) کوئی وضو نہیں۔