السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1469
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْغَفَّارِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَتْ: غَسَّلَ سَعْدٌ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ وَحَنَّطَهُ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَالَ لَنَا: " إِنِّي لَمْ أَغْتَسِلْ مِنْ غُسْلِي إِيَّاهُ وَلَكِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْحَرِّ ".حافظ ثناء اللہ
عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو غسل دیا اور ان کو خوشبو لگائی، پھر گھر آئے، غسل کیا اور ہم سے کہا: میں نے ان کو غسل دینے کی وجہ سے غسل نہیں کیا بلکہ گرمی کی وجہ سے غسل کیا ہے۔