کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: موزوں کے صرف ظاہری (اوپری) حصے پر مسح کرنے پر اکتفا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ " كَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمُغِيرَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے موزوں کے ظاہری حصے پر مسح کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ جَاءَ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى خُفِّهِ الْأَيْمَنِ وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى خُفِّهِ الْأَيْسَرِ ثُمَّ مَسَحَ أَعْلَاهُمَا مَسْحَةً وَاحِدَةً حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے پیشاب کیا، پھر آکر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا اور دایاں ہاتھ دائیں موزے پر اور بایاں ہاتھ بائیں موزے پر رکھا، پھر دونوں کے اوپر والے حصے پر ایک ہی بار مسح کیا، گویا میں رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کو موزوں پر دیکھ رہا ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر دین رائے سے ہوتا تو مسح موزے کے اوپر کی بجائے نیچے زیادہ مناسب ہوتا، جب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ، أنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: " لَوْ كَانَ دِينُ اللهِ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْخُفِّ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر دین رائے سے ہوتا تو موزے پر مسح اوپر کے بجائے نیچے زیادہ مناسب ہوتا، جب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ اس طرح انگلیوں سے مسح کرتے تھے (یعنی عملاً کرکے دکھلایا)۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى بَاطِنَ الْقَدْمَيْنِ إِلَّا أَحَقَّ بِالْمَسْحِ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن عبدالعزیز اعمش سے یہ حدیث نقل فرماتے ہیں کہ: ”میرا خیال تھا کہ قدموں کے اندرونی (نچلے) حصے مسح کے زیادہ مستحق ہیں یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ موزوں کے اوپر والے حصے پر ہی مسح فرماتے تھے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشِّعْرِيِّ، ثنا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ⦗٤٣٧⦘ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: " كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدْمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى ظَهْرِ قَدْمَيْهِ عَلَى خُفَّيْهِ " وَفِي كُلِّ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ الْمُقَيَّدَاتِ بِالْخُفَّيْنِ دَلَالَةٌ عَلَى اخْتِصَارٍ وَقَعَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرا خیال تھا کہ قدموں کا اندرونی (یعنی نچلا) حصہ ظاہری حصے سے مسح کا زیادہ مستحق ہے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا۔ (ب) موزوں والی روایات یہ تمام اس کے مختصر ہونے کی دلیل ہیں۔
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ وَمَسَحَ ثُمَّ قَالَ: " لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ الْقَدْمَيْنِ لَرَأَيْتُ أَنَّ أَسْفَلَهُمَا أَوْ بَاطِنَهُمَا أَحَقُّ بِذَلِكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَبْدُ خَيْرٍ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ صَاحِبَا الصَّحِيحِ فَهَذَا وَمَا رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ إِنَّمَا أُرِيدَ بِهِ قَدَمَا الْخُفِّ بِدَلِيلِ مَا مَضَى وَبِدَلِيلِ مَا رُوِّينَا عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ فِي وَصْفِهِ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبد خیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور مسح کیا، پھر فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ آپ ﷺ پاؤں کے اوپر مسح کرتے تھے تو میرا خیال تھا یہ کہ ان کا نیچے والا حصہ یا اندرونی حصہ زیادہ مستحق ہے۔“ عبد خیر سے صحیحین کے مصنفین نے حجت نہیں لی۔ یہ روایت اور جو اس معنی میں مروی ہے، اس سے مراد موزے کے قدم ہیں، اس کی دلیل گزشتہ روایات ہیں اور وہ روایت بھی جو ہم نے خالد بن علقمہ سے، انہوں نے عبد خیر سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے: (ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے طریقے کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنَا بِالْمَسْحِ عَلَى ظَهْرِ الْخُفَّيْنِ إِذَا لَبِسَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " خَالِدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے موزوں پر مسح کے متعلق سوال کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ ہم کو موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے جب فرمایا: باوضو پہنے ہوں۔“
(ب) خالد بن ابی بکر قوی نہیں، پچھلی روایت میں کفایت کر جائے گی۔
(ب) خالد بن ابی بکر قوی نہیں، پچھلی روایت میں کفایت کر جائے گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ رَأَى أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِقُبَاءَ مَسَحَ ظَاهِرَ خُفَّيْهِ بِكَفَّيْهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً ".
حافظ ثناء اللہ
حمید بن مخرق انصاری نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو قبا مقام میں دیکھا کہ انہوں نے اپنی ہتھیلیوں سے اپنے موزوں کے اوپر والے حصے پر ایک ہی بار مسح کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَرَّارٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ بَالَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ظُهُورَ الْقَدْمَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے پاؤں کے ظاہری حصے میں موزوں پر مسح کیا۔
وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ، قَالَ: رَأَيْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ⦗٤٣٨⦘ بَالَ، ثُمَّ أَتَى دِجْلَةَ وَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ هَكَذَا وَرَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ عَلَى خُفَّيْهِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْقَبَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَرُوِيَ مَعْنَى هَذَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
علاء کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے پیشاب کیا، پھر دجلہ آئے اور وضو کیا اور اپنے موزوں کے اوپر والے حصے میں اس طرح مسح کیا، میں نے ان کی انگلیوں کے نشان موزے پر دیکھے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي أَحَادِيثِ شُعْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَرَّارٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ " بَالَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ظُهُورَ الْقَدْمَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور پاؤں کے اوپر والے حصے میں موزوں پر مسح کیا۔