السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاقتصار بالمسح على ظاهر الخفين باب: موزوں کے صرف ظاہری (اوپری) حصے پر مسح کرنے پر اکتفا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1390
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ وَمَسَحَ ثُمَّ قَالَ: " لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ الْقَدْمَيْنِ لَرَأَيْتُ أَنَّ أَسْفَلَهُمَا أَوْ بَاطِنَهُمَا أَحَقُّ بِذَلِكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَبْدُ خَيْرٍ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ صَاحِبَا الصَّحِيحِ فَهَذَا وَمَا رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ إِنَّمَا أُرِيدَ بِهِ قَدَمَا الْخُفِّ بِدَلِيلِ مَا مَضَى وَبِدَلِيلِ مَا رُوِّينَا عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ فِي وَصْفِهِ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.حافظ ثناء اللہ
(الف) عبد خیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور مسح کیا، پھر فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ آپ ﷺ پاؤں کے اوپر مسح کرتے تھے تو میرا خیال تھا یہ کہ ان کا نیچے والا حصہ یا اندرونی حصہ زیادہ مستحق ہے۔“ (ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے طریقے کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا۔