السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: جواز نزع الخف وغسل الرجل إذا لم يكن فيه رغبة عن السنة باب: موزہ اتارنے اور پاؤں دھونے کے جواز کا بیان جب اس میں سنت سے اعراض مقصود نہ ہو
حدیث نمبر: 1396
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَكَانَ يَغْسِلُ هُوَ قَدْمَيْهِ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ: كَيْفَ تَأْمُرُ بِالْمَسْحِ وَأَنْتَ تَغْسِلُ؟ فَقَالَ: بِئْسَ مَا لِي إِنْ كَانَ مَهْنَاةً لَكُمْ وَمَأْثَمَةً عَلَيَّ " قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ وَيَأْمُرُ بِهِ وَلَكِنِّي امْرُؤٌ حُبِّبَ إِلِيَّ الْوُضُوءُ " لَفْظُ حَدِيثِ الزَّهْرَانِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور خود پاؤں کو دھوتے تھے، ان سے اس بارے میں پوچھا گیا: آپ مسح کا حکم دیتے ہو اور خود پاؤں دھوتے ہو؟ انہوں نے کہا: میرے لیے برا ہے، اگر تمہارے لیے مشقت ہوگی تو گناہ مجھ پر ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ ”آپ ﷺ اس طرح کرتے تھے اور اس کا حکم دیتے تھے“ لیکن میں وضو کو محبوب سمجھتا ہوں۔