وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يَمْسَحُ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ”موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرتے تھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: " وَضَّأْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ عَلَى أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلِهِ " كَذَا قَالَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ: ثنا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں میں نے نبی ﷺ کے (وضو کے) لیے پانی رکھا، آپ ﷺ نے موزے کے اوپر اور نیچے مسح کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ فَذَكَرَهُ، بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: عَنْ رَجَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن رشید نے اسی معنی میں حدیث ذکر کی ہے اور وہ رجاء سے منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يُرْوَى أَنَّ ثَوْرًا لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَجَاءٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: رَوَاهُ ابْنِ الْمُبَارَكِ ⦗٤٣٥⦘ عَنْ ثَوْرٍ وَقَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا لَيْسَ فِيهِ الْمُغِيرَةُ قَالَ: الشَّيْخُ: وَهَكَذَا ذَكَرَهُ أَبُو عِيسَى عَنِ الْبُخَارِيِّ وَأَبِي زُرْعَةَ الرَّازِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ولید نے اسی معنی میں روایت بیان کی ہے، کہتے ہیں کہ یہ رجاء بن حیوہ سے منقول ہے۔ (ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قول ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء سے نہیں سنی۔ (ج) ثور کہتے ہیں کہ مجھے رجاء بن حیوہ سے بیان کیا گیا، وہ کاتب المغیرہ سے اور وہ نبی ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں، اس میں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں۔ شیخ کہتے ہیں: امام ابو عیسیٰ (ترمذی) رحمہ اللہ نے امام بخاری اور ابو زرعہ رازی رحمہما اللہ سے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ الْخُفِّ وَبَاطِنِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ موزے کے اوپر اور نیچے مسح کیا کرتے تھے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَمَّارٌ، ثنا زَيْدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَا: أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يَضَعُ الَّذِي يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ يَدًا مِنْ فَوْقِ الْخُفِّ وَيَدًا مِنْ تَحْتِ الْخُفِّ، ثُمَّ يَمْسَحُ " قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلِيَّ فِي مَسْحِ الْخُفَّيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص مسح کرے وہ اپنا ہاتھ موزے کے اوپر رکھے اور ایک ہاتھ موزے کے نیچے، پھر مسح کرے۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ موزوں کے مسح کے متعلق جو میں نے سنا ہے وہ مجھے زیادہ درست لگتا ہے۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ موزوں کے مسح کے متعلق جو میں نے سنا ہے وہ مجھے زیادہ درست لگتا ہے۔