کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے مسح کرنے کے بعد اپنے موزے اتار دیے
حدیث نمبر: 1370
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الشَّامَاتِيُّ يَعْنِي جَعْفَرَ بْنَ أَحْمَدَ، أنا الْأَشَجُّ يَعْنِي أَبَا سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ الدَّالَانِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ يَبْدُو لَهُ فَيَنْزِعُهُمَا قَالَ: يَغْسِلُ قَدْمَيْهِ " ⦗٤٣٣⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن ابی مریم نبی ﷺ کے صحابہ میں سے اس شخص کے متعلق نقل فرماتے ہیں جو اپنے موزوں پر مسح کرتا ہے پھر اس کو خیال آتا ہے تو اتار دیتا ہے، انہوں نے کہا: اپنے قدموں کو دھوئے گا۔
حدیث نمبر: 1371
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَلَا نَعْرِفُ أَنَّ يَحْيَى سَمِعَ عَنْ سَعِيدٍ أَمْ لَا، وَلَا سَعِيدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
عبد السلام رحمہ اللہ نے اسے اسی معنی میں بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1372
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ الْمَسْحِ قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَنْزِعُ خُفَّيْهِ وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ " وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءٍ مِثْلُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ کے والد رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے مسح کا قصہ بیان فرماتے ہیں کہ میرے والد موزوں کو اتار دیتے تھے اور اپنے پاؤں دھوتے تھے۔
حدیث نمبر: 1373
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ خَلْدُونَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، فِي الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ وَيَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ يَخْلَعُهُمَا قَالَا: " يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ". وَرَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ نَفْسِهِ وَرُوِيَ عَنِ الْحَكَمِ وَغَيْرِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ يُصَلِّي وَلَا يَغْسِلُ قَدْمَيْهِ وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ شَيْءٌ ثَالِثٌ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ اور اسود رحمہما اللہ اس شخص کے متعلق بیان کرتے ہیں جو وضو کرتا ہے اور موزوں پر مسح کرتا ہے، پھر ان کو اتار دیتا ہے۔ دونوں حضرات کا کہنا ہے کہ اپنے پاؤں دھوئے گا۔ (ب) حکم رحمہ اللہ وغیرہ ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نماز پڑھے گا اور پاؤں نہیں دھوئے گا۔
حدیث نمبر: 1374
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي مِعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " إِذَا مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ خَلَعَهُمَا خَلَعَ وُضُوءَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص موزوں پر مسح کرے پھر ان کو اتارے، تو گویا اس نے اپنا وضو بھی اتار دیا (یعنی اس کا وضو ٹوٹ گیا)۔
حدیث نمبر: 1375
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ رِجْلَيْهِ الْخُفَّيْنِ طَاهِرَتَيْنِ، ثُمَّ أَحْدَثَ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ نَزَعَهُمَا أَيَغْسِلُهُمَا أَمْ يَسْتَأْنِفُ وُضُوءَهُ؟ قَالَ: بَلْ يَسْتَأْنِفُ وُضُوءَهُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَيُرْوَى عَنْ مَكْحُولٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَحَدَّثَنَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ أَبِي حَنِيفَةَ وَابْنِ أَبِي لَيْلَى عَلَى تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ وَقَدْ مَضَتِ الْآثَارُ فِيهِ فِي بَابِهِ وَرَوَيْنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ فِي رَجُلٍ دَخَلَ خُفَّهُ حَصَاةٌ قَالَ: يَتَوَضَّأُ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ يَنْزِعُ خُفَّهُ لِإِخْرَاجِ الْحَصَاةِ وَيَتَوَضَّأُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس نے وضو کیا اور باوضو ہو کر موزے پہنے، پھر بے وضو ہو گیا اور ان پر مسح کیا، پھر ان کو اتار دیا، کیا وہ پاؤں دھوئے گا یا نیا وضو کرے گا؟ انہوں نے کہا: بلکہ نیا وضو کرے گا۔ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ مکحول رحمہ اللہ سے اس کے معنی میں روایت منقول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی کتاب میں الگ الگ وضو بیان کیا گیا ہے۔ یہ آثار پچھلے باب میں گزر چکے ہیں۔ (ج) امام شعبی رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق منقول ہے جس کے موزے میں کنکر داخل ہو جائے کہ وہ وضو کرے گا۔ ان کی مراد یہ ہے کہ وہ کنکر نکالنے کے لیے موزے اتارے گا تو وضو دوبارہ کرے گا۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ»
حدیث نمبر: 1376
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ رُدَيْحٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهَا لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ مَا لَمْ يَخْلَعْ " تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ رُدَيْحٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے، آپ ﷺ نے ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا: ”مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، جب تک وہ خود نہ اتارے یا اتاریں نہ جائیں۔“