أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ⦗٢٨٥⦘ عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: " وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا مِنَ الْجَنَابَةِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " فَنَاوَلْتُهُ مِنْدِيلًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ بِيَدِهِ " قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَرِهَ ذَلِكَ مَخَافَةَ الْعَادَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ دُونَ قَوْلِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے غسلِ جنابت کے لیے پانی رکھا، پھر نبی ﷺ کے غسل کے متعلق لمبی حدیث بیان کی۔ فرماتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کو رومال دیا، آپ ﷺ نے اس کو نہیں لیا بلکہ آپ اپنے ہاتھ سے (جسم) صاف کرتے تھے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابراہیم کو ذکر کی تو انہوں نے کہا: عادت کے پڑ جانے کے ڈر سے اس کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اغْتَسَلَ عِنْدَهَا فَأَتَتْهُ بِمِنْدِيلٍ فَرَمَى بِهِ ". فَقَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: الْحَدِيثُ هَكَذَا وَلَا بَأْسَ بِالْمَسْحِ بِالْمِنْدِيلِ، إِنَّمَا هُوَ عَادَةٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ بِمَعْنَاهُ دُونَ قَوْلِ الْأَعْمَشِ لِإِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان کے پاس غسل کیا، وہ آپ ﷺ کے پاس رومال لے کر آئیں تو آپ ﷺ نے اس کو نہ لیا۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: بات اسی طرح ہے اور رومال سے صاف کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے، یہ تو ایک عادت ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ يِسَافٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " لَا تُمَنْدِلْ إِذَا تَوَضَّأْتَ ". وَرُوِّيَنَا عَنْ عُثْمَانَ، وَأَنَسٍ، أَنَّهُمَا لَمْ يَرَيَا بِهَ بَأْسًا. وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ فَعَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”جب تو وضو کرے تو رومال استعمال نہ کر۔“
(ب) سیدنا عثمان اور انس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ (رومال) استعمال کرتے تھے۔
(ب) سیدنا عثمان اور انس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ (رومال) استعمال کرتے تھے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَتْ لَهُ خِرْقَةٌ يَتَنَشَّفُ بِهَا بَعْدَ الْوُضُوءِ ". أَبُو مُعَاذٍ هَذَا هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ⦗٢٨٦⦘ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ الْحَافِظُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ بْنِ عَدِيٍّ الْحَافِظِ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک کپڑا ہوتا تھا، آپ وضو کے بعد اس سے (جسم) خشک کرتے تھے۔
(ب) ابو معاذ سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔
(ج) یہ روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں۔
(ب) ابو معاذ سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔
(ج) یہ روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الصُّوفِيُّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ الشِّيرَازِيِّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحْوِيُّ، ثنا أَبُو الْعَيْنَاءِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، نا أَبُو زَيْدٍ النَّحْوِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَتْ لَهُ خِرْقَةٌ يَتَنَشَّفُ بِهَا بَعْدَ الْوُضُوءِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے لیے ایک کپڑا ہوتا تھا، آپ وضو کے بعد اسی سے (جسم) صاف کرتے تھے۔
قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا رَوَاهُ أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَتْ لَهُ خِرْقَةٌ أَوْ مِنْدِيلٌ فَكَانَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ " أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أَنَا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَذَكَرَهُ، وَهَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
شیخ کہتے ہیں کہ اس کو ابو عمرو بن علاء نے ایاس بن جعفر سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے انہیں حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ کا ایک کپڑا یا تولیہ تھا، جب آپ وضو کرتے تو اس سے اپنا چہرہ اور ہاتھ صاف کرتے تھے۔
ایاس بن جعفر نے اس کو نقل کیا ہے (عبدالوارث عن ابو عمرو بن علاء کی سند سے بھی)۔
عبدالوارث کی حدیث میں یہی محفوظ ہے۔
ایاس بن جعفر نے اس کو نقل کیا ہے (عبدالوارث عن ابو عمرو بن علاء کی سند سے بھی)۔
عبدالوارث کی حدیث میں یہی محفوظ ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الْوَارِثِ، عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَهُ مِنْدِيلٌ أَوْ خِرْقَةٌ فَإِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ " فَقَالَ: كَانَ فِي قُطَيْنَةٍ، فَأَخَذَهُ ابْنُ عُلَيَّةَ فَلَسْتُ أَرْوِيهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لَوْ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ لَكَانَ إِسْنَادًا صَحِيحًا، إِلَّا أَنَّهُ امْتَنَعَ مِنْ رِوَايَتِهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ عِنْدَهُ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرْفِ ثَوْبِهِ "، وَهُوَ ضَعِيفٌ قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي بَابِ طَهَارَةِ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے لیے رومال یا کپڑا ہوتا تھا، جب آپ ﷺ وضو کرتے تو اپنا چہرہ صاف کرتے۔ عبدالوارث نے کہا: یہ (حدیث) ایک قطینہ (تھیلی) میں تھی، اسے ابن علیۃ لے گئے، اس لیے میں اس کو روایت نہیں کرتا۔
(ب) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ وضو فرماتے تو کپڑے کے ایک کنارے سے اپنے چہرے کو صاف فرماتے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو عبدالوارث عن عبدالعزیز عن انس بیان کرتے تو سند صحیح ہوتی مگر انہوں نے اس طرح بیان نہیں کی، اس بات کا احتمال ہے کہ انہوں نے پہلی سند سے نقل کیا ہے۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ والی روایت ضعیف ہے۔
(ب) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ وضو فرماتے تو کپڑے کے ایک کنارے سے اپنے چہرے کو صاف فرماتے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو عبدالوارث عن عبدالعزیز عن انس بیان کرتے تو سند صحیح ہوتی مگر انہوں نے اس طرح بیان نہیں کی، اس بات کا احتمال ہے کہ انہوں نے پہلی سند سے نقل کیا ہے۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ والی روایت ضعیف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَارَهُمْ فَوَضَعُوا لَهُ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلُوهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا ". ⦗٢٨٧⦘ هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَغَيْرِهِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي لِيَلِيَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَوَضَعْنَا لَهُ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ فَالْتَحَفَ بِهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کی ملاقات کے لیے گئے تو انہوں نے آپ ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر آپ کو ایک کپڑا دیا گیا جو زعفران سے رنگا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اس کو لپیٹ لیا۔
(ب) سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم نے آپ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ ﷺ نے غسل کیا، ہم آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئے جس میں ورس بوٹی لگی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے اس کو لپیٹ لیا گویا میں آپ کی گردن میں ورس کا نشان دیکھ رہا ہوں۔
(ب) سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم نے آپ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ ﷺ نے غسل کیا، ہم آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئے جس میں ورس بوٹی لگی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے اس کو لپیٹ لیا گویا میں آپ کی گردن میں ورس کا نشان دیکھ رہا ہوں۔