أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا حَائِضٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ فِي ذَلِكَ أَيْضًا بِمَا ثَبَتَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَائِضَ أَنْ تَغْسِلَ دَمَ الْحَيْضِ مِنْ ثَوْبِهَا وَلَمْ يَأْمُرْ بِغَسْلِ الثَّوْبِ كُلِّهِ، وَلَا شَكَّ فِي كَثْرَةِ الْعَرَقِ فِيهِ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ الْحَدِيثُ فِي مَوَاضِعَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سر کو کنگھی کرتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے نبی ﷺ کے اس حکم سے دلیل لی ہے جو حائضہ کے اس خون کے متعلق ہے جو کپڑے کو لگ جائے تو ”اس کو دھویا جائے“ اور آپ ﷺ نے سارا کپڑا دھونے کا حکم نہیں دیا۔ اس میں پسینے کے متعلق کوئی شک نہیں۔ یہ حدیث کئی جگہوں پر گزر چکی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ "، قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، قَالَ: " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”مجھ کو چٹائی پکڑاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کو پکڑا دی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. إِلَّا أَنَّهُ زَادَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَلَمْ يَقُلْ فَنَاوَلَتْهَا إِيَّاهُ. ⦗٢٨٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ سے (اسی سند سے) روایت ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”مجھے مسجد سے چٹائی پکڑا دو“ اور یہ الفاظ نہیں «فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ» ”کہ میں نے آپ کو پکڑا دی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو طَاهِرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمُرِّيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، أنا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ، جَمِيعًا عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَفْلَحَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ " وَتَلْتَقِي ". وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنْ أَفْلَحَ يَعْنِي وَتَلْتَقِي: " وَعِنْدِي أَنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ إِدْخَالُهُمَا أَيْدِيهِمَا فِيهِ لِأَخْذِ الْمَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے، ہمارے ہاتھ (پانی لینے میں) مختلف ہوتے تھے۔ (ب) امام بخاری و مسلم نے قعنبی سے روایت کیا ہے۔ (ج) افلح کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ہمارے ہاتھ ملتے تھے۔ ہمارے نزدیک اس قول «تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ» کا معنی ”ہمارے ہاتھ اس میں مختلف ہوتے تھے“ آپ دونوں کا پانی لینے کے لیے برتن میں ہاتھ داخل کرنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيُّ، بِحَلَبَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدِ الرَّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ رَجُلٍ يُدْخِلُ يَدَهُ الْإِنَاءَ وَهُوَ جُنُبٌ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ فَقَالَتْ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، وَلَكِنْ لِيَبْدَأْ فَيَغْسِلْ يَدَهُ قَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنا ہاتھ برتن میں داخل کرتا ہے اور وہ جنبی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی اور وہ پہلے اپنا ہاتھ دھوئے، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل کرتے تھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَعْرَقُ فِي ثَوْبِهِ وَهُوَ جُنُبٌ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کپڑوں میں پسینہ آتا تھا اور وہ جنبی ہوتے تھے، پھر اس میں نماز پڑھتے۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عُلَيٍّ، وَالْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَا بَأْسَ بِعَرَقِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ فِي الثَّوْبِ ".، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ لِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: کپڑوں میں حائضہ اور جنبی آدمی کے پسینے میں کوئی حرج نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ أَبِي مَطَرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ يَأْتِينِي وَأَنَا جُنُبٌ فَيَسْتَدْفِئُ بِي " تَفَرَّدَ بِهِ حُرَيْثُ بْنُ أَبِي مَطَرٍ، وَفِيهِ نَظَرٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غسلِ جنابت کرتے، پھر میرے پاس آتے اور میں جنبی ہوتی تھی، آپ ﷺ میرے ساتھ گرمی حاصل کرتے تھے۔
(ب) اس میں حریث بن ابو مطر کا تفرد ہے اور یہ تفرد محلِ نظر ہے۔ (ج) ایک دوسری ضعیف سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختصر روایت منقول ہے۔
(ب) اس میں حریث بن ابو مطر کا تفرد ہے اور یہ تفرد محلِ نظر ہے۔ (ج) ایک دوسری ضعیف سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختصر روایت منقول ہے۔