السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التمسح بالمنديل باب: تولیے (یا رومال) سے جسم پونچھنے کا بیان
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الْوَارِثِ، عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَهُ مِنْدِيلٌ أَوْ خِرْقَةٌ فَإِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ " فَقَالَ: كَانَ فِي قُطَيْنَةٍ، فَأَخَذَهُ ابْنُ عُلَيَّةَ فَلَسْتُ أَرْوِيهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لَوْ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ لَكَانَ إِسْنَادًا صَحِيحًا، إِلَّا أَنَّهُ امْتَنَعَ مِنْ رِوَايَتِهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ عِنْدَهُ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرْفِ ثَوْبِهِ "، وَهُوَ ضَعِيفٌ قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي بَابِ طَهَارَةِ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ.(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے لیے رومال یا کپڑا ہوتا تھا، جب آپ ﷺ وضو کرتے تو اپنا چہرہ صاف کرتے۔ عبدالوارث نے کہا: یہ (حدیث) ایک قطینہ (تھیلی) میں تھی، اسے ابن علیۃ لے گئے، اس لیے میں اس کو روایت نہیں کرتا۔
(ب) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ وضو فرماتے تو کپڑے کے ایک کنارے سے اپنے چہرے کو صاف فرماتے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو عبدالوارث عن عبدالعزیز عن انس بیان کرتے تو سند صحیح ہوتی مگر انہوں نے اس طرح بیان نہیں کی، اس بات کا احتمال ہے کہ انہوں نے پہلی سند سے نقل کیا ہے۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ والی روایت ضعیف ہے۔