کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: استنجاء میں پتھروں سے پونچھنے اور پانی سے دھونے کو جمع کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّونَ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَمَّا نَزَلَتْ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: ١٠٨] فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، إِنَّ اللهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ خَيْرًا فِي الطُّهُورِ، فَمَا طُهُورُكُمْ هَذَا؟ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلْ مَعَ ذَلِكَ غَيْرُهُ ". قَالُوا: لَا غَيْرَ أَنَّ أَحَدَنَا إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ أَحَبَّ أَنْ يسْتَنْجِيَ بِالْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ [سورة التوبة: 108] نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! اللہ نے تمہاری طہارت کے متعلق بہت اچھی تعریف کی ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں اور جنابت سے غسل کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ ہم میں سے جب کوئی قضائے حاجت کے لیے نکلتا ہے تو وہ پانی سے استنجا کرنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی (وہ کام) ہے، اس کو لازم پکڑو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يفْعَلُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اپنے خاوندوں کو حکم دو کہ وہ پاخانے اور پیشاب کے نشان کو دھوئیں، میں ان سے حیا کرتی ہوں اور رسول اللہ ﷺ بھی ایسے کیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، وَأَبُو عَوَانَةَ، قَالَا: ثنا قَتَادَةُ، فَذَكَرَ بِمَعْنَاهُ. وَرَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، فَلَمْ يُسْنِدْهُ إِلَى فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَتَادَةُ حَافِظٌ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ نے اسی معنی میں روایت ذکر کی ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا قَالَ: فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِينَ بِالْمَاءِ، وَقَالَتْ: " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " قَالَ: وَقَالَتْ: " هُوَ شِفَاءٌ مِنَ الْبَاسُورِ ". ⦗١٧٢⦘ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا مُرْسَلٌ، أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ لَا أُرَاهُ أَدْرَكَ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بصرہ کی عورتیں ان کے پاس آئیں، آپ رضی اللہ عنہا نے ان کو پانی سے استنجا کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی کہا کہ اپنے خاوندوں کو بھی اس کا حکم دو، رسول اللہ ﷺ ایسے کرتے تھے اور یہ بواسیر سے شفا کا ذریعہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: " إِنَّهُمْ كَانُوا يَبْعَرُونَ بَعْرًا، وَأَنْتُمْ تُثْلِطُونَ ثَلْطًا، فَاتَّبِعُوا الْحِجَارَةَ الْمَاءَ " تَابَعَهُ مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: لَيْسَ هَذَا مِنْ قَدِيمِ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَإِنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ يَرْوِي عَنِ الشَّبَابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ اونٹوں کی طرح مینگنیاں کرتے تھے اور تم پتلا پاخانہ کرتے ہو، لہٰذا تم پتھروں کے بعد پانی استعمال کرو۔
(ب) عبدالملک کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالملک نے شباب سے روایت کی ہے۔
(ب) عبدالملک کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالملک نے شباب سے روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّا كُنَّا نَبْعَرُ بَعْرًا، وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تُثْلِطُونَ ثَلْطًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم تو مینگنیاں کرتے تھے اور تم ان دنوں میں پتلا پاخانہ کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَاتِمِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبِي دَاوُدَ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا سَابِعُ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحَبَلِ أَوِ الْحَبَلَةِ هَكَذَا حَدَّثَ شُعْبَةُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ، لَقَدْ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ أَوِ الْحَبَلَةِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةَ مَالَهُ خِلْطٌ. وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتواں شخص تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتے کھانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسی طرح شعبہ نے بیان کیا ہے، اور ہم میں سے ہر شخص بکری کی طرح مینگنیاں کرتا تھا، پھر بنو اسد اسلام کی وجہ سے میری ملامت کرتے تھے، البتہ اس وقت میں خسارہ اٹھاؤں گا جب میری کوشش ضائع ہو جائے۔
(ب) ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ درخت کے پتے یا لوبیے جیسی ترکاری استعمال کرتے تھے، ہم تمام بکری کی طرح مینگنیاں کرتے تھے۔
(ب) ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ درخت کے پتے یا لوبیے جیسی ترکاری استعمال کرتے تھے، ہم تمام بکری کی طرح مینگنیاں کرتے تھے۔