حدیث نمبر: 520
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، قَالَ أَبُو دَاودَ: وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ ⦗١٧٣⦘ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ " قَالَ أَبُو دَاودَ: وَحَدِيثُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ أَتَمُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ بیت الخلا جاتے تو میں ایک برتن میں آپ ﷺ کے پاس پانی لے کر آتا۔ آپ ﷺ استنجا کرتے، پھر اپنا ہاتھ زمین پر ملتے۔ پھر میں آپ ﷺ کے پاس ایک دوسرا برتن لے کر آتا اور آپ ﷺ اس سے وضو کرتے۔
حدیث نمبر: 521
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبُو عُثْمَانَ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رِجْلَيْكَ قَالَ: " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَينِ ". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ: هَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ ﷺ نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر ملا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے پاؤں؟ (یعنی پاؤں نہیں دھوئے) آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان کو وضو کر کے پہنا تھا۔“
حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ أَبُو وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَضِّئْنِي ". فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ، فَاسْتَنْجَى بِمَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا بِهِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ تَوَضَّأْتَ وَلَمْ تَغْسِلْ رِجْلَيْكَ؟ قَالَ: " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابووہب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وضو کراؤ“، میں آپ ﷺ کے پاس پانی لے کر آیا، آپ ﷺ نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کو ملا، پھر آپ ﷺ نے اس ہاتھ کو دھویا اور وضو کیا، موزوں پر مسح بھی کیا، میں نے کہا کہ آپ نے وضو کیا اور پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان کو وضو کر کے پہنا تھا۔“
حدیث نمبر: 523
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ " كَانَ يُوضَعُ لَهُ الْمَاءُ وَالْأُشْنَانُ يَعْنِي لِلِاسْتِنْجَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے لیے پانی اور «الْأُشْنَان» (صابن نما بوٹی) رکھا جاتا، یعنی استنجا کرنے کے لیے۔