حدیث نمبر: 510
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يأْتِي الْخَلَاءَ فَأَتَّبِعُهُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَيَسْتَنْجِي بِهَا ". مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابومیمونہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلاء آتے تو میں اور انصار کا ایک لڑکا پانی کا برتن لے کر آپ ﷺ کے پیچھے جاتا اور آپ ﷺ اس سے استنجا فرماتے۔
حدیث نمبر: 511
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءَ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: ١٠٨]، قَالَ: " كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت اہل قباء کے متعلق نازل ہوئی ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [سورة التوبة: 108]
اور وہ پانی سے استنجا کرتے تھے اس لیے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔“
اور وہ پانی سے استنجا کرتے تھے اس لیے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔“
حدیث نمبر: 512
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: ١٠٨] قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ فَقَالَ: " مَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي أَثْنَى الله عَلَيْكُمْ بِهِ ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ دُبُرَهُ أَوْ قَالَ: مَقْعَدَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَفِي هَذَا ". وَرُوِيِّنَا عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ إِذَا بَالَ، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ، عَنْهَا: مِنَ السُّنَّةِ غَسْلُ الْمَرْأَةِ قُبُلَهَا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [سورة التوبة: 108] نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے عویم بن ساعدہ کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا: ”یہ کون سی طہارت ہے جس پر اللہ نے تمہارے لیے تعریف کی ہے؟“ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جو مرد یا عورت قضائے حاجت کو نکلتی ہے تو وہ اپنی شرم گاہ کو پانی سے دھوتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“
(ب) سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ پیشاب کرتے تو پانی سے استنجا کرتے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عورت کا اپنی اگلی شرمگاہ کو دھونا سنت ہے۔
(ب) سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ پیشاب کرتے تو پانی سے استنجا کرتے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عورت کا اپنی اگلی شرمگاہ کو دھونا سنت ہے۔