السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الجمع في الاستنجاء بين المسح بالأحجار والغسل بالماء باب: استنجاء میں پتھروں سے پونچھنے اور پانی سے دھونے کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 519
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَاتِمِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبِي دَاوُدَ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا سَابِعُ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحَبَلِ أَوِ الْحَبَلَةِ هَكَذَا حَدَّثَ شُعْبَةُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ، لَقَدْ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ أَوِ الْحَبَلَةِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةَ مَالَهُ خِلْطٌ. وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتواں شخص تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتے کھانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسی طرح شعبہ نے بیان کیا ہے، اور ہم میں سے ہر شخص بکری کی طرح مینگنیاں کرتا تھا، پھر بنو اسد اسلام کی وجہ سے میری ملامت کرتے تھے، البتہ اس وقت میں خسارہ اٹھاؤں گا جب میری کوشش ضائع ہو جائے۔
(ب) ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ درخت کے پتے یا لوبیے جیسی ترکاری استعمال کرتے تھے، ہم تمام بکری کی طرح مینگنیاں کرتے تھے۔