السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الجمع في الاستنجاء بين المسح بالأحجار والغسل بالماء باب: استنجاء میں پتھروں سے پونچھنے اور پانی سے دھونے کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 517
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: " إِنَّهُمْ كَانُوا يَبْعَرُونَ بَعْرًا، وَأَنْتُمْ تُثْلِطُونَ ثَلْطًا، فَاتَّبِعُوا الْحِجَارَةَ الْمَاءَ " تَابَعَهُ مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: لَيْسَ هَذَا مِنْ قَدِيمِ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَإِنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ يَرْوِي عَنِ الشَّبَابِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ اونٹوں کی طرح مینگنیاں کرتے تھے اور تم پتلا پاخانہ کرتے ہو، لہٰذا تم پتھروں کے بعد پانی استعمال کرو۔
(ب) مسعر نے عبدالملک سے اس کی متابعت کی ہے۔ کہا گیا: یہ عبدالملک کی پرانی احادیث میں سے نہیں، کیونکہ عبدالملک نوجوانوں سے روایت کرتے ہیں۔