أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحَارِثُ الْفَقِيهُ، قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ " أَنْ لَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا خط جو عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے نام تھا اس میں یہ تھا کہ: ”تو قرآن کو باوضو ہو کر ہاتھ لگا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا، أنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: " وَلَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر بن محمد بن حزم اپنے دادا سے اور وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یمن والوں کو خط لکھا جس میں فرائض، سنن اور دیتوں کا ذکر تھا اور سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کو بھیجا، پھر انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی تھا کہ: ”قرآن کو صرف باوضو شخص چھوئے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ ثَوَابٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا يحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرًا ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سالم رحمہ اللہ سے سنا، وہ اپنے باپ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کو صرف باوضو ہی چھوئے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا جَدِّي أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أُمْسِكُ الْمُصْحَفَ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَاحْتَكَكْتُ، فَقَالَ سَعْدٌ: " لَعَلَّكَ مَسَسْتَ ذَكَرَكَ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: " قُمْ فَتَوَضَّأَ "، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سامنے مصحف شریف پڑھتا تھا تو (ایک دن) میں اٹکنے لگا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید تو نے اپنی شرم گاہ کو چھوا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: کھڑا ہو اور وضو کر۔ میں کھڑا ہوا، میں نے وضو کیا، پھر واپس لوٹا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا الْحَسَّانِيُّ، نا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فَخَرَجَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، لَوْ تَوَضَّأْتَ لَعَلَّنَا أَنْ نَسْأَلَكَ عَنْ آيَاتٍ قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ أَمَسُّهُ، إِنَّمَا {لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: ٧٩] " فَقَرَأَ عَلَيْنَا مَا شِئْنَا. لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ، هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَرَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَلْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ اپنی حاجت پوری کر کے آئے تو میں نے کہا: ”اے ابوعبداللہ! کاش آپ وضو کرلیتے، شاید ہم آپ سے آیات کے متعلق سوال کرتے۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اس شرمگاہ کو نہیں چھوا۔“ پھر فرمایا: ﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ [سورة الواقعة: 79] ”اس قرآن مجید کو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔“ پھر انہوں نے جو چاہا پڑھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُنَادِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْأَزْرَقَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا بِسَيْفِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قِيلَ لَهُ: " إِنَّ خَتَنَكَ وَأُخْتَكَ قَدْ صَبَوَا وَتَرَكَا دِينَكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ " فَمَشَى عُمَرُ حَتَّى أَتَاهُمَا وَعِنْدَهُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُقَالَ لَهُ خَبَّابٌ، وَكَانُوا يَقْرَءُونَ طه فَقَالَ عُمَرُ: " أَعْطُونِي الْكِتَابَ الَّذِي هُوَ عِنْدَكُمْ فَأَقْرَأُ " قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ يَقْرَأُ الْكِتَابَ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ: إِنَّكَ رِجْسٌ، وَإِنَّهُ {لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: ٧٩] فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ. قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ، فَقَرَأَ: طه ". وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ، وَهُوَ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ السَّبْعَةِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لٹکا کر نکلے، پھر انہوں نے حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کا بہنوئی اور بہن بے دین ہو گئے ہیں اور انہوں نے تیرے دین کو چھوڑ دیا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے اور یہاں تک کہ ان کے پاس آئے، ان کے پاس مہاجرین میں سے ایک شخص تھا جس کو خباب رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، وہ دونوں سورة طٰہٰ کی تلاوت کر رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے پاس جو کتاب ہے وہ مجھے دو، انہوں نے ان کو پڑھ کر سنایا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کتاب پڑھا کرتے تھے۔ ان کی بہن نے کہا: بلاشبہ تم ناپاک ہو، ﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ [سورة الواقعة: 79] ”اس کو تو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں“، آپ جا کر غسل کریں یا وضو۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، وضو کیا، کتاب پکڑی اور سورة طٰہٰ کی تلاوت کی۔ اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔
(ب) اہل مدینہ کے فقہائے سبعہ کا قول ہے۔
(ب) اہل مدینہ کے فقہائے سبعہ کا قول ہے۔