السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: نهي المحدث عن مس المصحف باب: بے وضو شخص کو قرآن مجید چھونے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 411
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا جَدِّي أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أُمْسِكُ الْمُصْحَفَ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَاحْتَكَكْتُ، فَقَالَ سَعْدٌ: " لَعَلَّكَ مَسَسْتَ ذَكَرَكَ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: " قُمْ فَتَوَضَّأَ "، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ ".حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سامنے مصحف شریف پڑھتا تھا تو (ایک دن) میں اٹکنے لگا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید تو نے اپنی شرم گاہ کو چھوا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: کھڑا ہو اور وضو کر۔ میں کھڑا ہوا، میں نے وضو کیا، پھر واپس لوٹا۔