السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: نهي المحدث عن مس المصحف باب: بے وضو شخص کو قرآن مجید چھونے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 408
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحَارِثُ الْفَقِيهُ، قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ " أَنْ لَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا خط جو عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے نام تھا اس میں یہ تھا کہ: ”تو قرآن کو باوضو ہو کر ہاتھ لگا۔“