أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقَزَّازِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗١٤٣⦘ أَنَا وَرَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَرَجُلٌ أَحْسَبُهُ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا وَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ، فَمَسَحَ بِهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ رَأَى أَنَّا أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ: " كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقْضِي حَاجَتَهُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ، وَلَمْ يكُنْ يَحْجُبُهُ وَرُبَّمَا قَالَ: يَحْجِزُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ". رَوَاهُ أَبُو دَاودَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم تین شخص سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ایک شخص میری قوم سے تھا اور دوسرا شاید بنی اسد قبیلے سے تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک طرف بھیجا اور فرمایا: تم دونوں مضبوط ہو اور اپنے دین پر پختہ رہنا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لے گئے اور قضاءِ حاجت کی، پھر باہر آئے اور پانی سے ایک چلو لیا، پھر اس سے مسح کیا اور قرآن پڑھنا شروع ہو گئے۔ راوی کہتا ہے: انہوں نے ہمیں متعجب پایا تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ اپنی حاجت پوری کرتے تھے، پھر قرآن پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ ﷺ کو قرآن (کی تلاوت) سے نہیں روکتی تھی (راوی نے کبھی روکنے کے لیے دوسرا لفظ بولا)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي الْكَنُودِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ الْغَافِقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: " إِذَا تَوَضَّأْتُ وَأَنَا جُنُبٌ أَكَلْتُ وَشَرِبْتُ وَلَا أُصَلِّي وَلَا أَقْرَأُ حَتَّى أَغْتَسِلَ ". قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ لِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ مِثْلَهُ، يَعْنِي مِنْ قَوْلِهِمَا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مالک غافقی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں تو وضو کر لیتا ہوں، میں کھاتا اور پیتا ہوں، لیکن نماز نہیں پڑھتا اور نہ قرآن پڑھتا ہوں جب تک غسل نہ کر لوں۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت واقدی نے عبداللہ بن سلیمان سے اسی طرح نقل کی ہے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت واقدی نے عبداللہ بن سلیمان سے اسی طرح نقل کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ " أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَرِهَ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَهُوَ جُنُبٌ ". ⦗١٤٤⦘ وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عُمَرَ، وَهُوَ الصَّحِيحُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو وائل سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں قرآن پڑھنا ناپسند سمجھتے تھے۔
دیگر راویوں نے اسے ابو وائل سے، انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔
دیگر راویوں نے اسے ابو وائل سے، انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔
وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، نا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَيٍّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ أَبِي الْغَرِيفِ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْجُنُبِ قَالَ: " لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا حَرْفًا ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابوغریف، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنبی کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: وہ قرآن نہ پڑھے، بلکہ ایک حرف بھی نہ پڑھے۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تک تو جنبی نہ ہو تو قرآن کو پڑھتا رہ۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تک تو جنبی نہ ہو تو قرآن کو پڑھتا رہ۔