کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وضو کے وقت خضاب (یا مہندی) دور کرنے کا بیان جب وہ پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، نا هُشَيْمٌ، وَمُعَاذٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ ابْنِ أَخِي أُمِّ الْمُؤْمِنْينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْمَرْأَةِ تَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهَا الْخِضَابُ، قَالَتِ: " اسْلُتِيهِ وَأَرْغِمِيهِ " قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: قَوْلُهَا أَرْغِمِيهِ، تَقُولُ: أَهِينِيهِ وَارْمِي بِهِ عَنْكِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس عورت کے بارے میں جو وضو کرتی ہے اور اس پر خضاب ہو، فرماتی ہیں کہ وہ اس کو اتار دے اور اس کو مجبور کر دے۔
(ب) ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے ارشاد ”اس کو مجبور کر دے“ سے ان کی مراد یہ ہے کہ اسے اپنے سے دور کر دے۔
(ب) ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے ارشاد ”اس کو مجبور کر دے“ سے ان کی مراد یہ ہے کہ اسے اپنے سے دور کر دے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنْينَ، تَقُولُ: " بَلَغَنِي أَوْ ذُكِرَ لِي أَنَّ نِسَاءً يَخْتَضِبْنَ، ثُمَّ تَمْسَحُ إِحْدَاهُنَّ عَلَى خِضَابِهَا إِذَا تَوَضَّأَتْ لِلصَّلَاةِ، لَأَنْ تُقْطَعَ يَدِيَّ بِالسَّكَاكِينِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح فرماتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے یا مجھے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ عورتیں خضاب لگاتی ہیں، پھر کوئی اپنے خضاب پر مسح کرتی ہے جب وہ نماز کے لیے وضو کرتی ہے، ان کا ہاتھ چھری کے ساتھ کاٹ دیا جائے، یہ مجھ کو زیادہ اچھا لگتا ہے اس سے کہ میں یہ کروں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْعَالِيَةَ حَدَّثَهُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرَ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْخِضَابِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أُخْبِرُكَ كَيْفَ تَخْتَضِبُ نِسَاؤُنَا يُصَلِّيَنَّ يَعْنِي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْكَبْنَ الْخِضَابَ فَيَنَمْنَ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ نَزَعْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ ثُمَّ رَكِبْنَهُ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الظُّهْرِ نَزَعْنَهُ بِأَحْسَنِ خِضَابٍ فَلَا يُشْغَلْنَ عَنْ وُضُوءٍ، فَإِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْتَضِبْنَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالعالیہ یا کسی اور شخص نے حدیث بیان کی کہ اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خضاب کے بارے میں سوال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں آپ کو بتلاؤں گا کہ ہماری عورتیں کس طرح خضاب لگاتی تھیں، وہ عشاء کی نماز پڑھتی تھیں، پھر خضاب لگاتیں، پھر وہ سو جاتیں۔ جب صبح کی نماز ہوتی اس کو اتار دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھتیں، پھر اس کو لگا لیتیں، جب ظہر کی نماز کا وقت ہوتا تو اس کو اچھے خضاب کے ساتھ اتار دیتیں۔ یہ چیز ان کو وضو سے مشغول نہیں کرتی تھی۔ نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات بھی عشاء کی نماز کے بعد خضاب لگاتی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، أنا ⦗١٢٦⦘ رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْخِضَابِ، فَقَالَ: " أَمَّا نِسَاؤُنَا فَيَخْتَضِبْنَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ يُنَظِّفَنَّ أَيْدِيَهُنَّ، فَيَتَطَهَّرْنَ، ثُمَّ يَعُدْنَ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ بِأَحْسَنِ خِضَابٍ، وَلَا يَمْنَعُهُنَّ ذَلِكَ مِنَ الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
لاحق بن حمید فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے خضاب کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”ہماری عورتیں عشاء کی نماز سے صبح کی نماز تک خضاب لگاتی تھیں، پھر اپنے ہاتھوں کو صاف کرتیں، پھر وضو کرتیں اور صبح کی نماز سے ظہر کی نماز تک دوبارہ اپنے خضاب کے ساتھ لوٹ آتیں اور یہ چیز ان کو نماز سے نہیں روکتی تھی۔“