السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: في نزع الخضاب عند الوضوء إذا كان يمنع الماء باب: وضو کے وقت خضاب (یا مہندی) دور کرنے کا بیان جب وہ پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنے
حدیث نمبر: 367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، أنا ⦗١٢٦⦘ رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْخِضَابِ، فَقَالَ: " أَمَّا نِسَاؤُنَا فَيَخْتَضِبْنَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ يُنَظِّفَنَّ أَيْدِيَهُنَّ، فَيَتَطَهَّرْنَ، ثُمَّ يَعُدْنَ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ بِأَحْسَنِ خِضَابٍ، وَلَا يَمْنَعُهُنَّ ذَلِكَ مِنَ الصَّلَاةِ ".حافظ ثناء اللہ
لاحق بن حمید فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے خضاب کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”ہماری عورتیں عشاء کی نماز سے صبح کی نماز تک خضاب لگاتی تھیں، پھر اپنے ہاتھوں کو صاف کرتیں، پھر وضو کرتیں اور صبح کی نماز سے ظہر کی نماز تک دوبارہ اپنے خضاب کے ساتھ لوٹ آتیں اور یہ چیز ان کو نماز سے نہیں روکتی تھی۔“