السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: في نزع الخضاب عند الوضوء إذا كان يمنع الماء باب: وضو کے وقت خضاب (یا مہندی) دور کرنے کا بیان جب وہ پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنے
حدیث نمبر: 366
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْعَالِيَةَ حَدَّثَهُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرَ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْخِضَابِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أُخْبِرُكَ كَيْفَ تَخْتَضِبُ نِسَاؤُنَا يُصَلِّيَنَّ يَعْنِي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْكَبْنَ الْخِضَابَ فَيَنَمْنَ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ نَزَعْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ ثُمَّ رَكِبْنَهُ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الظُّهْرِ نَزَعْنَهُ بِأَحْسَنِ خِضَابٍ فَلَا يُشْغَلْنَ عَنْ وُضُوءٍ، فَإِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْتَضِبْنَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ".حافظ ثناء اللہ
ابوالعالیہ یا کسی اور شخص نے حدیث بیان کی کہ اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خضاب کے بارے میں سوال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں آپ کو بتلاؤں گا کہ ہماری عورتیں کس طرح خضاب لگاتی تھیں، وہ عشاء کی نماز پڑھتی تھیں، پھر خضاب لگاتیں، پھر وہ سو جاتیں۔ جب صبح کی نماز ہوتی اس کو اتار دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھتیں، پھر اس کو لگا لیتیں، جب ظہر کی نماز کا وقت ہوتا تو اس کو اچھے خضاب کے ساتھ اتار دیتیں۔ یہ چیز ان کو وضو سے مشغول نہیں کرتی تھی۔ نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات بھی عشاء کی نماز کے بعد خضاب لگاتی تھیں۔