السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: في نزع الخضاب عند الوضوء إذا كان يمنع الماء باب: وضو کے وقت خضاب (یا مہندی) دور کرنے کا بیان جب وہ پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنے
حدیث نمبر: 365
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنْينَ، تَقُولُ: " بَلَغَنِي أَوْ ذُكِرَ لِي أَنَّ نِسَاءً يَخْتَضِبْنَ، ثُمَّ تَمْسَحُ إِحْدَاهُنَّ عَلَى خِضَابِهَا إِذَا تَوَضَّأَتْ لِلصَّلَاةِ، لَأَنْ تُقْطَعَ يَدِيَّ بِالسَّكَاكِينِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح فرماتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے یا مجھے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ عورتیں خضاب لگاتی ہیں، پھر کوئی اپنے خضاب پر مسح کرتی ہے جب وہ نماز کے لیے وضو کرتی ہے، ان کا ہاتھ چھری کے ساتھ کاٹ دیا جائے، یہ مجھ کو زیادہ اچھا لگتا ہے اس سے کہ میں یہ کروں۔