السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: في نزع الخضاب عند الوضوء إذا كان يمنع الماء باب: وضو کے وقت خضاب (یا مہندی) دور کرنے کا بیان جب وہ پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنے
حدیث نمبر: 364
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، نا هُشَيْمٌ، وَمُعَاذٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ ابْنِ أَخِي أُمِّ الْمُؤْمِنْينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْمَرْأَةِ تَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهَا الْخِضَابُ، قَالَتِ: " اسْلُتِيهِ وَأَرْغِمِيهِ " قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: قَوْلُهَا أَرْغِمِيهِ، تَقُولُ: أَهِينِيهِ وَارْمِي بِهِ عَنْكِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس عورت کے بارے میں جو وضو کرتی ہے اور اس پر خضاب ہو، فرماتی ہیں کہ وہ اس کو اتار دے اور اس کو مجبور کر دے۔
(ب) ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے ارشاد ”اس کو مجبور کر دے“ سے ان کی مراد یہ ہے کہ اسے اپنے سے دور کر دے۔