أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، وَأنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، وَأنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، قَالَا: ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ". ⦗٤٦⦘ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي فَوَائِدِهِ، عَنِ الطُّوسِيِّ، وَالْفَاكِهِيِّ مَعًا، فَزَادَ فِي الْإِسْنَادِ بَعْدَ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَظُنُّهُ وَهْمًا، فَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ بِخَطِّ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى كَمَا تَقَدَّمَ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَهُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ فِي كِتَابِهِ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَهُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى بْنِ أَبِي مَيْسَرَةَ فِي كِتَابِهِ دُونَ ذِكْرِ جَدِّهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمُضَبَّبِ مَوْقُوفًا عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی نے سونے، چاندی یا کسی ایسے برتن میں پیا جس میں دونوں کی ملاوٹ ہو تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔“
(ب) امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں اپنی سند سے جو روایت بیان کی ہے وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔
(ب) امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں اپنی سند سے جو روایت بیان کی ہے وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَشْرَبُ فِي قَدَحٍ فِيهِ حَلْقَةُ فِضَّةٍ، وَلَا ضَبَّةُ فِضَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ برتن جس میں چاندی کا کڑا ہوتا یا چاندی کا دستہ ہوتا تو وہ اس میں نہیں پیتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكِيسَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أُتِيَ بِقَدَحٍ مُفَضَّضٍ لِيَشْرَبَ مِنْهُ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: " إِنَّ ابْنَ عُمَرَ مُنْذُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، لَمْ يَشْرَبْ فِي الْقَدَحِ الْمُفَضَّضِ ". وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس چاندی کے ساتھ پالش کیا ہوا پیالہ لایا گیا تاکہ وہ اس سے پئیں، لیکن انہوں نے اس میں پینے سے انکار کر دیا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے ”سونے اور چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے“ تب سے چاندی لگے ہوئے برتن میں نہیں کھایا۔
أَمَّا حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنَّا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَمَا زِلْنَا بِهَا حَتَّى رَخَّصَتْ لَنَا فِي الْحُلِيِّ، وَلَمْ تُرَخِّصْ لَنَا فِي الْإِنَاءِ الْمُفَضَّضِ ". قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: قَالَ سَعِيدٌ: هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَمَلْنَاهُ عَلَى الْحَلْقَةِ وَنَحْوِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھیں، ہم ہمیشہ آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہیں حتیٰ کہ آپ رضی اللہ عنہا نے زیورات میں رخصت دے دی اور چاندی سے پالش کیے برتن میں رخصت نہ دی۔
وَأَمَّا حَدِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَأَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٧⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، " أَنَّ أَنَسًا، كَرِهَ الشُّرْبَ فِي الْمُفَضَّضِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے چاندی سے پالش کیے ہوئے برتن میں پینے کو ناپسند کیا۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ شَقِيقٍ، ثنا أَبِي، أنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ قَدَحَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَدَعَ فَجَعَلَ مَكَانَ الشَّعِبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ ". قَالَ عَاصِمٌ: وَرَأَيْتُ الْقَدَحَ، وَشَرِبْتُ فِيهِ. قَالَ أَبِي: وَرَأَيْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کی تار لگا کر جوڑ دیا۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے وہ پیالہ دیکھا اور اس میں پیا بھی، میرے والد کہتے ہیں: میں نے وہ پیالہ دیکھا اور اس میں پیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: انْكَسَرَ بَدَلَ انْصَدَعَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا، وَهُوَ يُوهِمُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعِبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حمزہ رحمہ اللہ نے اسی مذکورہ حدیث کی مانند ذکر کیا ہے لیکن «اِنْصَدَعَ» کی جگہ «اِنْكَسَرَ» کے لفظ ذکر کیے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اسی طرح حدیث بیان کی ہے اور ان کو شبہ ہے کہ نبی ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہ کو چاندی کی تار سے جوڑا یا نہیں۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: أنا أَبُو حَمْزَةَ وَهُوَ السُّكَّرِيُّ، أنا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَدَعَ فَجَعَلْتُ مَكَانَ الشَّعِبِ سِلْسِلَةً يَعْنِي أَنَّ أَنَسًا جَعَلَ مَكَانَ الشَّعِبِ سِلْسِلَةً ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: هَكَذَا فِي الْحَدِيثِ لَا أَدْرِي مَنْ قَالَهُ: أَمُوسَى بْنُ هَارُونَ أَمْ مَنْ فَوْقَهُ؟.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا تو میں نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر تار لگا دی، یعنی انس رضی اللہ عنہ نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر تار لگا دی۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں اسی طرح ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ بات موسیٰ بن ہارون نے کی ہے یا ان سے اوپر کسی اور راوی نے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں اسی طرح ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ بات موسیٰ بن ہارون نے کی ہے یا ان سے اوپر کسی اور راوی نے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: رَأَيْتُ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَدِ انْصَدَعَ فَسَلْسَلَهُ بِفِضَّةٍ. قَالَ: وَهُوَ قَدَحٌ جَيِّدٌ عَرِيضٌ مِنْ نُضَارٍ. قَالَ أَنَسٌ: " لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْقَدَحِ أَكْثَرَ مِنْ كَذَا وَكَذَا ". قَالَ: وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: أَنَّهُ كَانَ فِيهِ حَلْقَةٌ ⦗٤٨⦘ مِنْ حَدِيدٍ فَأَرَادَ أَنَسٌ أَنْ يَجْعَلَ مَكَانَهَا حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَقَالَ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ: لَا تُغَيِّرِنَّ شَيْئًا صَنَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكَهُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
عاصم احول کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس نبی ﷺ کا پیالہ دیکھا وہ ٹوٹا ہوا تھا، انہوں نے اس کو چاندی کی تار کے ساتھ جوڑ دیا۔ عاصم کہتے ہیں: وہ پیالہ بہت عمدہ تھا اور خالص جھاؤ کا بنا ہوا تھا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس پیالے میں اکثر دفعہ پانی پلایا۔
(ب) حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس پیالے پر لوہے کا کڑا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس کی جگہ سونے یا چاندی کا حلقہ لگا دیں تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جو کام رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے اس کو تبدیل نہ کر اس کو رہنے دے۔
(ب) حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس پیالے پر لوہے کا کڑا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس کی جگہ سونے یا چاندی کا حلقہ لگا دیں تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جو کام رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے اس کو تبدیل نہ کر اس کو رہنے دے۔