أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَيْفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ بِقَدَحِ فِضَّةٍ، فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ. يَقُولُ أَبُو نُعَيْمٍ: كَأَنَّهُ يَقُولُ: لَمْ أَصْنَعْ هَذَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، وَلَا الدِّيبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنْهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَيْفِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے انہیں چاندی کے پیالے میں پانی پلانا چاہا، جب اس نے پیالہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر رکھا تو انہوں نے وہ پیالہ پھینک دیا، پھر فرمایا: اگر میں نے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ اس کو منع نہ کیا ہوتا (ابو نعیم کہتے ہیں: گویا کہ وہ کہہ رہے تھے) تو میں اس طرح نہ کرتا، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم سلک اور باریک ریشم نہ پہنو اور نہ تم سونے چاندی کے برتنوں میں پیو اور نہ تم سونے چاندی کی پلیٹوں میں کھاؤ۔ یہ برتن ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَأَخَذَهُ فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ. وَقَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوَ رِوَايَةِ سَيْفٍ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ فِي النَّهْيِ عَنِ الْأَكْلِ فِيهَا. ⦗٤٥⦘ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں (پانی) لایا، انہوں نے وہ برتن پکڑ کر پھینک دیا اور فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ”سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے، پینے سے منع کیا اور موٹے اور باریک ریشم کے کپڑے پہننے اور ان پر بیٹھنے سے منع کیا“ اور فرمایا: ”وہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں۔“
(ب) ابن ابی نجیح رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”ان (برتنوں) میں کھانا منع ہے۔“
(ب) ابن ابی نجیح رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”ان (برتنوں) میں کھانا منع ہے۔“
أَمَّا حَدِيثُ عَلِيٍّ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، نا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَنَا: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، أَنْ يُشْرَبَ فِيهَا، وَأَنْ يُؤْكَلَ فِيهَا، وَنَهَى عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ، وَعَنْ ثِيَابِ الْحَرِيرِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہم سے کہا: ”بیشک رسول اللہ ﷺ نے سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع کیا اور ٹسر کے بنے ہوئے کپڑے، خالص سرخ رنگ، ریشم کے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع کیا۔“
وَأَمَّا حَدِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا قَطَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطَوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عِنْدَ نَفَرٍ مِنَ الْمَجُوسِ قَالَ: فَجِيئَ بِفَالَوْذَجٍ عَلَى إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلْهُ. فَقِيلَ لَهُ: حَوِّلْهُ. قَالَ: " فَحَوَّلَهُ عَلَى إِنَاءٍ مِنْ خَلَنْجٍ وَجيئَ بِهِ فَأَكَلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجوسیوں کی ایک جماعت کے پاس تھا، آپ کے پاس چاندی کا ایک فانوس لایا گیا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ نہ کھایا تو مجوسیوں سے کہا گیا: کسی اور برتن میں لے آؤ، چنانچہ اس نے خلنج کے برتن سے تبدیل کیا اور اس میں لے کر آیا تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس (برتن) سے کھایا۔