السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب النهي عن الإناء المفضض باب: چاندی جڑے ہوئے برتن کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 114
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: انْكَسَرَ بَدَلَ انْصَدَعَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا، وَهُوَ يُوهِمُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعِبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو حمزہ رحمہ اللہ نے اسی مذکورہ حدیث کی مانند ذکر کیا ہے لیکن «اِنْصَدَعَ» کی جگہ «اِنْكَسَرَ» کے لفظ ذکر کیے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اسی طرح حدیث بیان کی ہے اور ان کو شبہ ہے کہ نبی ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہ کو چاندی کی تار سے جوڑا یا نہیں۔